مکتوب آسٹریلیا

by Other Authors

Page 303 of 443

مکتوب آسٹریلیا — Page 303

303 وہیں موجود ہوتا اور کام کر رہا ہوتا ہے چنانچہ آپ فرماتے ہیں: فرشتے آسمان اور آسمانی اجرام اور ان کی ارواح کے لئے بطور جان کے ہیں۔شیطان بھی ہلاکت ،ظلمت اور جناب الہی سے دوری اور دکھوں کے 66 پیدا کرنے کے لئے بمنزلہ اسٹیم (Steam) کے اسٹیم انجن کے لئے ہیں۔“ (ایضاً صفحه : ۵۱۶) یعنی زمین و آسمان کی ہر شے میں جو بھی صفات اور قوتیں ودیعت کی گئی ہیں اور جو وہ کام کر رہی ہے اُسکو چلانے کے لئے جو انجن یا Motive Power ہے وہ دراصل ملائکہ ہیں۔لیکن جس طرح گاڑیوں کو زمین پر چلنے کیلئے زمین کی مزاحمت (Friction) درکار ہے۔ہوائی جہازوں کو ہوا کی مزاحمت اور کشتی کو تیرنے کے لئے پانی کی مزاحمت کی ضرورت ہوتی ہے۔مقناطیس کے ایک پول کو قائم رکھنے کے لئے بالمقابل کے پول کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح شیطانوں کا کام بھی فرشتوں کو آگے بڑھنے کے خلاف مزاحمت مہیا کرنا ہے۔اسلئے جہاں فرشتے ہوتے ہیں وہاں ساتھ ہی شیاطین الجن بھی ہوتے ہیں۔جب کوئی نبی مبعوث ہونے والا ہوتا ہے تو جہاں فرشتوں میں اسکی مدد کیلئے حرکت پیدا ہوتی ہے۔وہیں جنات بھی لنگر لنگوٹے کس کر میدان میں آجاتے ہیں۔نیکی اور بدی کی تحریک کر نیوالی دونوں قو تیں فعال ہو جاتی ہیں جیسے جب آسمان سے بارش آتی ہے تو تمام اچھے برے نباتات پر ایک نئی رونق آجاتی ہے۔حضرت خلیفہ اسیح اول فرماتے ہیں:۔خدا تعالیٰ کی عادت ہے کہ صلح کے تولد۔ظہور اور اسکی فتح مندی پر حزب الرحمن اور حزب الشیطان کی جنگ پہلے اوپر ہوتی ہے پھر زمین پر۔(ایضا صفحہ ۶۷) فرشتے تمام ستاروں اور اشیاء وغیرہ پر اپنا روحانی اثر ڈالتے ہیں۔شہب پر بھی اثر ڈالتے ہیں اور پھر یہ اثر ان سے متعلقہ دیگر اشیاء پر پڑتا ہے۔پس فرشتے جو شہب کو اپنے اثر سے چلاتے ہیں ان کا اثر مزاحمت پیدا کرنے والے شیاطین الجن پر کیوں نہیں پڑتا ہوگا آپ فرماتے ہیں:۔آیت إِنْ كُلُّ نَفْسٍ لَمّا عَلَيْهَا حَافِظ (الطارق) کے نیچے حضرت شاہ عبدالعزیز صاحب نے مفصل لکھا ہے کہ فرشتے بروج پر اثر ڈالتے