مکتوب آسٹریلیا — Page 255
255 پورا کرنے کا سلسلہ بھی بند ہو جاتا ہے اور جتنی یہ جسم میں مرتے وقت موجود ہوتی ہے وہ تابکاری شعاؤں کے اخراج کی وجہ سے آہستہ آہستہ کم ہوتی رہتی ہے اور اس کمی سے یہ اندازہ لگایا جاتا ہے کہ انسان یا حیوان کو مرے یا درخت کو گرے ہوئے کتنا عرصہ گزر گیا ہے۔کائنات میں ہر چیز کی عمر کا ایک اندازہ مقرر ہے اور ذرہ ذرہ میں یہ امر ودیعت کیا گیا ہے کہ وہ کتنا عرصہ زندہ رہے گا یعنی اپنی صفات کو ظاہر کر سکے گا۔ایک دائرہ کے اندرا یک Band Width مقرر کر دی گئی ہے۔جو بتاتی ہے کہ اس کی طبعی عمر اس حد سے اس حد تک ہے۔انسان کے ہر DNA میں اس کی طبعی عمر کا اندازہ موجود ہے۔مثلا خدا اگر اپنے کسی پیارے بندے کو بتائے کہ تمہاری عمر ۷۵ سے ۸۵ سال کے درمیان ہوگی تو ایک تو اس پر اس کے DNA میں مرقوم عمر کا انکشاف کیا گیا اور دوسرے یہ کہ کوئی حادثہ یا مہلک بیماری اسے اس کی طبعی عمر تک پہنچنے سے نہیں روک سکے گی۔واللہ اعلم اللہ کی قدرت ہے کسی نے ہزاروں سال پہلے پتھروں پر کوئی نشان بنائے اور آج یہ معلوم کیا جا رہا ہے کہ اس نے کب یہ معمولی سا کام کیا تھا۔کل کو اسی مقام پر اس کا DNA بھی گرا پڑا دریافت ہو سکتا ہے جس سے اس بندے کی تصویر بھی سامنے آجائے گی۔خدا نے سچ ہی فرمایا تھا من يعمل مثقال ذره خيرا يره ومن يعمل مثقال ذرة شرا يره (الزلزال ۹۸) یعنی جس نے ایک ایٹم کے برابر بھی نیکی کی ہوگی وہ اس (کے نتیجہ ) کو دیکھ لے گا۔اور جس نے ایٹم کے برابر بھی بدی کی ہوگی وہ بھی اس کے نتیجہ ) کو دیکھ لے گا۔(استغفر الله ربي من كل ذنب واتوب اليه) (الفضل انٹر نیشنل 14۔8۔98)