مکتوب آسٹریلیا — Page 197
197 برطانوی روایات کے مطابق جن پر آسٹریلیا میں بھی عمل ہوتا ہے جس وقت ایوان زیریں ایوان نمائندگان یا ہاؤس آف کامنز ) کا اجلاس ہورہا ہو برطانوی تاجدار بادشاہ یا ملکہ یا ان کا نمائندہ (گورنر جنرل ) ایوان میں داخل نہیں ہو سکتا۔جب گورنر جنرل نے ایوان سے خطاب کرنا ہو تو وہ سینٹ کے نقیب کو حکم دیتے ہیں کہ ارکان اسمبلی کو کہیں کہ سینٹ کے ہال میں آجائیں۔جس پر نقیب (جس نے کالے رنگ کا لمبی دم والا کوٹ ، ننگ پہنچوں والی پر برجس، عدالتی بوٹ ،سیاہ دستانے پہنے ہوتے ہیں تلوار جسم پر آویزاں کی ہوتی ہے اور ہاتھ میں مذکورہ بالا عصا یا چھڑی پکڑی ہوتی ہے ) ایوان زیریں میں آکر تین بار چھڑی سے دروازہ پر زور سے ٹھوکر لگاتے ہیں۔جس پر ایوان زیریں کا نقیب (Serjeant at Arms) دروازہ سے باہر جھانک کر دیکھتا ہے اور پوچھتا ہے کہ ”کون ہو؟“ جب اس کو بتایا جاتا ہے تو پھر وہ تسلی کرتا ہے کہ اس کے ساتھ کوئی سپاہی تو نہیں اور جب دیکھتا ہے کہ کسی رکن پارلیمنٹ کی گرفتاری کا خطرہ نہیں تو پھر وہ ایوان کو بتاتا ہے اور وہ اس کے پیچھے پیچھے ایوان بالا میں داخل ہوتے ہیں جہاں گورنر جنرل ان سے خطاب کرتا ہے۔اس ساری کاروائی میں نقیب کے عصا کا ایک مخصوص کردار ہوتا ہے۔خطرہ تھا کہ مرمت شدہ چھڑی کہیں زور سے ٹھوکر لگاتے ہوئے اپنے جوڑ سے دوبارہ نہ ٹوٹ جائے لیکن خیر گزری اور کوئی حادثہ پیش نہیں آیا۔اس روایت کی ابتداء ۱۹۴۲ء میں ہوئی جب شہنشاہ چارلس اول نے برطانوی ہاؤس آف کامنز پر مسلح چھاپہ مارا تھا اور کی ممبران پارلیمنٹ کو گرفتار کرنے کی کوشش کی تھی۔تب سے یہ برطانیہ اور دیگر سترہ ممالک میں جو آج بھی ملکہ برطانیہ کو اپنا سر براہ تسلیم کرتے ہیں ) یہ روایت چلی آتی ہے کہ ملکہ یا ان کا کوئی نمائندہ اجلاس کے دوران ایوان زیریں میں داخل نہیں ہوتے۔برطانوی قوم اپنی روایات کی کتنی پاسبان ہے یہ اس کی ایک عمدہ مثال ہے۔(الفضل انٹر نیشنل 23۔8۔96)