مجالس عرفان — Page 115
وجہ یہ ہے کہ اس میں اصولی اختلاف ہے۔بعض دفعہ نیکی کے نام پر بھی غلط رسمیں رائج ہو جاتی ہیں اور وہ فائدہ پہنچانے کے بجائے نقصان پہنچایا کرتی ہیں۔امر واقعہ یہ ہے اور اس عقیدے پر ہم بڑی شرح صدر سے قائم ہیں، اور اس میں ہم کبھی تبدیلی نہیں کر سکتے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر دین کامل ہو گیا اور آپ کا اسوہ حسنہ ہی ہمیشہ کے لئے تقلید کے لائق ہے یا ان صحابہ سوختہ جنہوں نے آپ سے تربیت پائی۔ان کے سوالو قرآن میں اور کسی کا اور ماننے کا کہیں محکم نہیں ہے نکال کر دکھاد کیجئے۔حضرت اقدس محمد مصطفی صلی الہ علیہ وسلم آخری نمونہ ہیں جن کی پیروی لازمی قرار دے دی گئی اور کسی اور کی پیٹری تب ہم کریں گے اگر وہ حضور کریم کی پیروی کرے گا ور نہیں کریں گے۔تو یہ ساری چیزیں جن کا ذکر ہے، سوئم ، چالیسواں، گھٹلیوں پر قرآن پھوک ختم قرآن بادالوں پر پڑھنا اُن میں سے ایک بھی چیز حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ اور خلفائے راشدین کے زمانے میں نہیں تھیں۔اور اس بارے میں شیعہ سنی روایات میں اختلاف ہی کوئی نہیں متفق الیہ ہیں۔کہ حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے خلفاء راشدین آپ کے صحابہ کے وقت یہ رسمیں نہیں تھیں۔تو قرآن ان سے بہتر کون سمجھتا تھا ؟ قرآن سے تم قرآن کے اور اگر کر مارا کیا ہے اور پیری زبان کھلے گی۔دوری تو نہیں کرتے تھے۔اور سر بادام یہ منزل کی راتیں ہیں۔جب قرض کرتی ہیں تو رسم و روا کیا ہوا به