مجالس عرفان — Page 107
1+6 تو تم کہتے ہو کہ بین باپ کے کیسے پیدا ہوا۔تو آدم کے متعلق عقیدہ رکھتے ہو کہ نہ اس کی ماں تھی نہ اس کا باپ تھا۔تو اگرین باپ کی پیدائش کے نتیجے میں آسمان پر چڑھنا چاہیے تو حضرت آدم کو تو ساتویں آسمان سے بھی اوپر نکل جانا چاہیئے کیونکہ قرآن کہتا ہے کہ مشال ملتی جلتی ہے بلکہ اس سے زیادہ شدید ہے۔تو یہ کون سی لغویات ہوئی۔یہ کوئی استدلال تو نہ ہوا کہ چونکہ ایک معجزہ عطا ہو گیا۔اس لئے دوسرا عجیب و غریب معجزہ ضرور عطا ہو۔خدا کو کون پابت کر سکتا ہے۔سب کچھ ہو سکتا ہے، اگر خدا چاہیے۔اس بات نہیں ہمارا کوئی اختلاف نہیں۔مگر اگر چاہیے۔تو بنائے گابھی تو سہی کہ میں نے ایسا کیا ہے۔جب ایک گواہی نہ ملے ہم کیوں مانیں۔ایک دفعہ ایک مولوی صاحب نے مجھ سے یہی بات پوچھی تھی کہ حضرت عیلی آسمان پر جا نہیں سکتے ؟ میں نے کہا کیوں نہیں جاسکتے ، خدا قادر ہے؟ میں نے کہا کیوں قادر نہیں ہے۔ضرور جاسکتے ہیں خدا بھی قادر ہے تو پھر کیوں نہیں مانتے۔میں نے کہا آسمان پر جاسکتے ہیں تو کشمیر نہیں جاسکتے ؟ خدا قادر نہیں ہے کہ کشمیر پہنچا دے تو کیوں نہیں مانتے آپ یہ کوئی دلیل ہے کہ ہم تب انہیں گئے جب خدا کہے گا کہ ہاں یہ واقعہ ہوا ہے۔اس کے بغیر نہیں نہیں گے۔اس لئے نہیں ہم انکار کرتے کہ ناممکن ہے۔ہم کہتے ہیں کہ اللہ تعالے نے کبھی کیا نہیں یہ اس کی سنت کے خلاف ہے اور آئندہ سے متعلق خدا نے یہ نہیں کہا۔قرآن کریم میں جو آیت ایک ہے وہ آیت جس میں رفع کا ذکر ہے تو علماء اس سے استنباط کرتے ہیں کہ اس کا مطلب ہے ہم نے جسم سمیت آسمان پر اٹھا لیا۔اس آیت پر میں تھوڑی سی گفتگو کر دیتا ہوں اگر ان کے ذہن میں یہ شبہ ہو تو وہ دور ہو جائے گا۔قرآن کریم میں وہ آیت لمبی ہے۔صرف آخری حصہ بیان کرتا ہوں۔حضرت عیسی کے متعلق فرمایا یہ دلوں