مجالس عرفان — Page 99
44 سل رکھ دی اور اپنے خون اور پانی سے اس کے اپنے کو ٹلے ٹھنڈے ہوئے اور ان ظالموں کے دل نہیں ٹھنڈے ہوئے۔ان ظالموں کے دل کی آگ اسی طرح بھڑکتی رہی۔اور وہ ظلم میں حد سے زیادہ آگے بڑھتے چلے گئے یہاں تک کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی کو شہید کیا۔بعض کو اونٹوں سے باندھا اس طرح کہ ایک ٹانگ ایک اونٹ سے اور دوسری دوسرے اونٹ سے۔اور ان کو چروا دیا۔یہ سلوک ہے دنیا کے سب سے بڑے امام سے اس وقت آپ کی قوم نے کیا اور آپ یہ کہتی ہیں کہ اس امام کو مانیں گے جس پر پھول برسائے جائیں گے وہ سچا ہوگا۔جب کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم جن کی خاطر کائنات پیدا کی گئی، جب کتے کی گلیوں سے گزرتے تھے تو آپ کے سر پر گھر کا کوڑا پھینکا جاتا تھا ، خاک پھینکی جاتی تھی اور حضرت فاطمہ روتی ہوئی کر صاف کیا کرتی تھیں کہ اس ظالم قوم کو کیا ہو گیا ہے۔تو غلام کے ساتھ یہ سلوک ہوگا کہ اس پر پھول برسائے جائیں گے ؟ کوئی عقل کریں، ہوش کریں۔ایسہ کی نشانیاں تو قرآن نے محفوظ کر دی ہیں اور سنت نے ہمیشہ کے لئے محفوظ کر دی ہیں۔جو امام ان رستوں سے چل کر آئے گا وہی ستا ہو گا۔جس امام پر دعوے کے بعد پھول برسیں گے اور اس کی نعتیں پڑھی جائیں گی اور اس کے اوپر قوالیاں کہی جائیں گی وہ تو جھوٹا ہوگا۔کیونکہ نظام مصطفی ہو کہ آقا سے الگ سلوک کا متقی بنایا جائے گا۔یہ ہوہی نہیں تھا۔مذہبی تاریخ کا ایک بہت بڑا المیہ اس لئے ہمارے اور آپ کے درمیان پہچان کا فرق ہے۔آپ کی پہچان بگڑا چکی ہے۔آپ ایک ایسے فرضی امام کے انتظار میں ہیں۔جس کے