مجالس عرفان

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 95 of 142

مجالس عرفان — Page 95

کھیت ہیں۔میں نے ایک دفعہ گندم کاشت کی دوسرے دن جا کر دیکھا تو ہل چلا ہو ا تھا۔میں نے اپنے ملازم سے پوچھا کہ یہ کیا تماشہ ہے۔یہ تم نے کل کاشت کی ہے آج ہل چلا دیا ہے۔اس نے کہا نہیں یہ رسور کو بارلا کہتے ہیں نام بھی نہیں لیتے) بارلا آیا ہی اُنے کل چلایا ہے۔اس کا کل جو ہوتا ہے نہ چند دانے کھائے باقی سارا اُجائے کہ چلا گیا۔گنے کے کھیت میں چلا جائے، مکئی کے کھیت میں چلا جائے اُجاڑتا بہت ہے۔سارا کھیت برباد کر دیتا ہے۔چند چھلیاں کھائے گا۔بیچ میں سے لیکن سارا کھیت تباہ کر دیتا ہے۔علماء کا یہ حال ہو کہ اپنی اُمت کے باغ کو ہر طرف اجاڑ رہے ہوں جدھر جائیں رگیدتے جائیں۔تباہیاں مچار ہے ہوں۔ان کے متعلق قرآن کریم نے یہ لفظ استعمال کیا اور ایک ہی لفظ میں بہت سی صفات ان کی بیان فرما دیں۔تو اب آپ سوچ سکتی ہیں کہ نعوذ باللہ یہ خدا کا کلام نہیں لگتا۔اس میں ایسے الفاظ استعمال ہوئے ہیں موقع محل کے مطابق بعض دفعہ سچی بات کرنی پڑتی ہے سختی کرنی پڑتی ہے۔صرف دیکھنا یہ ہے کہ وہ واقعاتی ہے یا جھوٹی ہے۔اگر جھوٹی ہے تو گالی ہے۔اگر بدنیتی سے سچی بات بھی کہی گئی ہے تب بھی گالی ہے۔اگر علاج کے طور پر ایسا شخص جو خدا کی طرف سے مامور ہو وہ بیماریوں کو کھول کر بیان کرے تو اس کا نام گالی نہیں رکھا جاتا۔یہ ایسی بات ہے جیسے جج کسی کے متعلق فیصلہ کر دے کہ یہ اس نے گندی حرکت کی تھی۔اور کوئی باہر بیٹھا ہے کہ یہ بیج کی شان کے خلاف ہے ایسی بات اس نے فلاں کے متعلق کہہ دی۔وہ تو اس کے کاموں میں داخل ہے اس لئے مامور من اللہ کے متعلق فیصلہ کرنا پڑے گا۔اس لئے اگر یہ ثابت ہو جائے کہ یہ مامورمن اللہ ہے اللہ نے اس شخص کو کھڑا کیا ہے۔تو جس طرح پہلے کھڑے کرنے