مجالس عرفان — Page 64
ہے۔یہ ہم ترجمہ کرتے ہیں تفسیری! اب سنئے سورۃ الناس اس میں من والا محاورہ آجاتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔قُل اَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ مَلِكِ النَّاسِ الهِ النَّاسِ النَّاسِ کا سارا ذکر چل رہا ہے۔الناس کا کرب الناس كا مالك ، الناس الله مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنّاس کی تشریح کی مِنَ الجَنَّةِ وَالنَّاس۔تک الناس چلا۔صُدُورِ الناس کی تشریح کی۔مِنَ الجَنَّةِ وَالنَّاس۔الناس دو قسموں کے ہوں گے۔الناس میں سے جن اور الناس میں سے الناس یہ تو قرآن کریم نے اتنا مضمون کھول دیا ہے کہ خود جو آپ نے مین کے لفظ کا مطالبہ کیا تھا۔وہ کھل کر بیان فرما دیا کہ جب ہم کہتے ہیں کان اس میں وہ وسوسہ چھونکے گا تو مراد یہ ہے کہ الناس کے دونوں گروہوں میں الناس میں سے بڑے لوگوں میں بھی اور الناس میں سے عوامی طاقتوں میں بھی مراد یہ تھی کہ آخری زمانہ میں ایسے فتنے پیدا ہونے والے ہیں جن معنوں سے خدا سے متنفر کیا جائے گا۔یہ بڑی capitalist طاقتوں میں بھی فتنے کر نکالیں گے اور دہریت کی طرف لے کر جائیں گے۔تو ان اس کی تشریح مِنَ الجُنَّةِ والناس کہہ کر سارے مضمون کو کھول دیا۔اگر کوئی احمدی خاتون کہتی ہے۔کہ انسان کے سوا جن کا کوئی وجود نہیں تو غلط کہتی ہے۔اگر وہ یہ کہتی ہے کہ وہ بھی ہو گا لیکن جن انسانوں کے لئے بھی قرآن کریم نے استعمال کیا ہے تو وہ درست کہتی ہے۔