مجالس عرفان — Page 59
۵۹ انہوں نے مشورہ دیا کہ یا رسول اللہ ! یہ غم سے نڈھال ہو گئے ہیں، ان کے دماغ کے اندر سوچنے کی بھی طاقت نہیں رہی، آپ اُٹھیں اور قربانی دیں؟ پھر دیکھیں یہ کیا کرتے ہیں۔تو رسول اکرم نے قربانی دی تو سارے صحابہ پک پڑے اور قربانی دی۔یہ وہ منظر ہے کیونکہ حضور اکرم نے زبر دستی حج نہیں کیا۔اس لئے کہ قرآن کریم نے حج کی یہ شرط رکھی ہوئی ہے کہ راستے کا امن مہیا نہ ہو تو حج نہیں کرنا۔اور حضور اکرم سے بڑھ کر فلسفہ شریعت کو کوئی نہیں سمجھ سکتا۔آپ جانتے تھے کہ ثواب اور تقویٰ اور نیکی اللہ کی اطاعت کا نام ہے نہ کہ زیرہ دستی خدا کو خوش کرنے کا نام ہے۔اس لیئے قرآن کریم میں عائد کردہ شرطا جب تک موجود ہے۔اس وقت تک کسی کو حج کرنے کی قرآن اجازت نہیں دیتا۔یعنی زبر دستی جس کو روکا جائے گا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے رک جاؤ پھر ہم جانیں اور تمہارا معاملہ ہمارے ساتھ ہے۔ہمارے نزدیک تمہارا حج بغیر کئے بھی قبول ہو سکتا ہے۔یہ بات میں نے کہاں سے نکالی۔یہ قرآن کریم میں ہے۔سورۃ الفتح میں اللہ تعالیٰ رسول کریم کی حج کی قبولیت کی دو علامتیں بیان فرماتا ہے کہ عام حج تو یہ ہوتے ہیں۔کہ حج سے پہلی زندگی کے سارے گناہ بخشے جاتے ہیں۔لیکن یہ حج جو نہیں کیا گیا تھا بظاہر خدا کی رضا کی خاطر، فرمایا یہ ایسا ہے کہ پہلے گناہ بھی بنتے گئے۔اور آئندہ کے گناہ بھی بنے گئے اس سے بھی بڑا کبھی دنیا میں حج ہوا ہے کہ بظاہر نہیں ہوا اور پہلی زندگی پر بھی حاوی ہو جائے اس کی برکت اور آئندہ زندگی پر بھی عادی ہو جائے، اور تمام بیعت رضوان کرنے والوں کے لئے جنت کی خوش خبری دے دے۔پس اصل ظاہر پرستی میں کوئی دین نہیں۔اللہ تعالیٰ کی اطاعت