مجالس عرفان — Page 38
ہوئیں کیونکہ وہ حیران رہ گئے کہ تیرہ سو سال پہلے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگوئی فرمائی۔مہدویت کا ایک دعویدار موجود ہے۔اس کے سوا اور کوئی دعویدار ہے ہی نہیں اور چاند سورج کو رمضان کے مہینے میں گرین لگ جاتا ہے۔لیکن اس وقت علماء نے موقف بدلا اور ترجمہ یہ کیا کہ نہیں پہلی رات چاند کو گرہن لگے گا۔تب ہم مانیں گے۔کیونکہ حضور نے فرمایا۔لا ولِ لَيْلَةٍ پہلی رات۔ہم اُن کے سامنے یہ بات رکھتے ہیں کہ تمہارا یہ موقف لازماً غلط ہے سو فیصدی غلط ہے کیونکہ کام محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکرا رہا ہے۔جو موقف بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کے مخالف ہوگا۔وہ غلط ہو گا۔آنحضر کرتے جب پیشگوئی کی تو یہ الفاظ فرمائے ينكسف القمر قمر چاند کو کہتے ہیں يتكسف بینی گرہن یہ تو فرما یا چاند کو گرہن لگے گا۔اور ساری دنیا جانتی ہے کہ پہلی تین راتوں کے چاند کو قمر نہیں کہا جاتا بلکہ طلال کہا جاتا ہے۔آج بھی رویت ہلال کمیٹی تو آپ نے سُنی ہوگی۔رویت قمر کمیٹی اگر کہیں تو وہ مولوی صاحب الٹ کے آپ کو کہیں گے جاہل تمہیں عربی نہیں آتی۔میں تو رویت ہلال کمیٹی کا اور ممبر ہوں رویت قمر تم نے کیا لغو بات کر دی۔تمہیں عربی نہیں آتی۔تعوذ باللہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عربی نہیں آتی ان مولویوں کو آتی ہے۔اور جو افصح العرب تھے۔ساری دنیا تسلیم کرتی ہے کہ قرآن کے بعد سب سے زیادہ فصیح و بلیغ کلام کرنے والے تھے تو انہوں نے کیسے غلط لفظ استعمال کر لیا۔اگر آپ کے ذہن کے کسی گوشے میں پہلی رات کا چاند کا گرہن مراد ہوتا تو پہلی تین راتوں کے چاند کا ذکر کرتے ہوئے آنحضور لاز ما بلال فرماتے قمر نہیں کہہ سکتے تھے۔تو حدیث خود اتنی قوی ہے کہ اپنے معنے خود بیان کر دیتی ہے۔اس لئے اس کے بعد اور کونسی دلیل آپ چاہتے