مجالس عرفان — Page 31
کہ نعوذ باله آ نحضرت صلی اللہ علیہ سلم کے مقابل پرکسی کو ادنی سی بھی عربیت دے۔یکی یہ عرض کر رہا ہوں کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو تہذیب ہمیں عطا فرمائی۔اس تہذیب کی حدود میں رہنا ضروری ہے۔آنحضرت صلی اللہ علی کو دیکھ کر صحابہ کھڑے ہوتے تھے۔خلفاء کو دیکھ کر صحابہ کھڑے ہوتے تھے۔اور دوسرے بزرگوں کو دیکھ کر کھڑے ہوتے تھے۔غائبانہ نام پر انہیں کھڑ- ہوتے تھے۔صرف یہ فرق ہے جو بیان ہو رہا ہے۔مہمان خاتون کے پاس ایک دلیل ابھی باقی تھی سوال کیا۔غائبانہ جب ہم آپ پر ایمان لا سکتے ہیں تو احترام کیوں نہ کریں ؟ حضور نے فرمایا نہ احترام کیوں نہیں کرتے۔احترام تو لازمی ہے۔ہمیں کب کہتا ہوں احترام نہ کریں۔آپ تو مجھے بالکل نہیں سمجھ رہیں۔ہمیں کہتا ہوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کہ احترام ساری دنیا میں کسی کا نہیں ہوسکتا۔مگر احترام کا طریق وہ ہو گا۔جو حضور نے سکھایا ہے۔یہ صرف فرق ہو رہا ہے۔کون ظالم کہتا ہے۔احترام نہ کرو۔احترام تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کرکسی کا نہیں ہوگا۔مگر اسنفور جو احترام کا طریق بتاتے ہیں اس سے باہر نکلنا ہے احترامی ہے نہ کہ احترام۔یہ ہماری Logic ہے۔آپ اگر یہ احترام سمجھتیں ہیں کہ رسول اللہ کے بیان کردہ طریق احترام کو ترک کر کے اس کی اطاعت سے باہر نکل کر بھی کوئی احترام ہو سکتا ہے تو آپ کو یہ احترام مبارک ہو۔میرے نزدیک عدم اطاعت، عدم احترام ہے۔اس لئے لازما احترام کرنا ہے۔تو اطاعت کے دائرے میں رہیں۔اس سے باہر نہ نکلیں۔اور جو طریق احترام کا آنحضور نے سکھایا ہے۔اس طریق کو کافی سمجھیں۔