مجالس عرفان

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 30 of 142

مجالس عرفان — Page 30

ہوا کرتے تھے۔اس لئے ہمارے نزدیک تو حضور کا ارشاد ہی قابل تعظیم اور قابل اطاعت ہے۔جس کی عزت کرنی ہے۔اُس کی عدم اطاعت کر کے تو عونت نہیں کی جاسکتی۔اور صحابہ نے اور خلفاء نے اپنے فعل سے ثابت کیا کہ یہ عزت کا طریق نہیں ہے۔یہ سنت کے خلاف ہے۔اس لئے ہم تو اسلام کے اُسی حصے پر کار بند رہیں گے اور اُسی کو کافی سمجھیں گے جو حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ سے ثابت ہے۔خاتون محترم کی تسلی نہیں ہو رہی تھی پھر اپنی بات دہرائی۔آنحضرت نے اپنے لئے مسلمانوں سے تعظیم نہیں کروائی تو آپ کے لئے میں نے سُنا ہے۔لوگوں کی زبان سے کہ ہمارے حضور تشریف لارہے ہیں بہائے خلیفہ اول۔ہمارے پیشوا ہمارے حضور تشریف لارہے ہیں۔تو آپ نے یہ کیسے قبول کر لیا کہ آپ کو اتنا بڑارتبہ لوگ دے دیں ؟ حضور پر نور نے تحمل سے فرمایا۔جماع احمدی سے زیادہ آنحضرت کا اور کوئی احترام نہیں کرتا آپ نے تو ایسی بات کی ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا جتنا احترام اور جتنا عشق ہماری جماعت میں پایا جاتا ہے۔آپ اس کا تصور بھی نہیں کر سکتیں۔حضرت مسیح موعود بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کی نظم نشرھ لیجئے۔اور سارے اب تک کے جو مدحیہ ، یا نعتیہ کلام ہیں ان کو دیکھ لیجئے۔آپ کا دل گواہی دے گا کہ اس کلام میں زیادہ مشق اور احترام ہے۔یہ تو ہر انسان کا دل اگر وہ تقویٰ سے فیصلہ کرنا چاہے تو فوراً فیصلہ دے سکتا ہے۔دیکھئے دنیا میں کوئی احمدی وہم و گمان بھی نہیں کر سکتا کہ