مجالس عرفان

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 136 of 142

مجالس عرفان — Page 136

میں کوئی بھی جواز نہیں ہے، اس لئے سبھی اس کو رد کر دیں۔ویسے بھی نا مناسب بات ہے دکھ کے موقع پر کھانے تقسیم کرنا ایسی بیہودہ رسم ہے اس کو توڑنا چاہیئے۔جس کا کوئی فوت ہو جائے اس کا لوگوں میں کھانا تقسیم کرنا ہے معنی اور لغو بات ہے، اس سے پر ہیز کریں ، نہ ایسے کھانے کھائیں تو ایسی حرکت کریں جب کوئی فوت ہو جاتا ہے چند دن ایسے آتے ہیں کہ اُن دنوں میں ملنے والے بہت ، تعزیت والے بہت ، انتظام کی مشکلات اور لیا اوقات فوت ہونے والے ایسے بھی ہوتے ہیں جنہوں نے نقدی چھے نہیں چھوڑی ہوتی اس وقت اُن کے بچوں یا ہیولوں کے لئے پیسے مانگنا اور گھر کے اخراجات چلانا یہ مزاج کے خلاف بات ہے۔اس لئے وہ کھانا تعاون یا ہی کا ایک اظہار ہے اگر دکھاڑے سے پاک ہو۔حضرت میر محمد اسماعیل صاحب رسموں کے بہت خلاف تھے۔انہوں نے اس خیال سے ایک نظم لکھی جس کا ایک مصرعہ یہ تھا۔نہ غم کے عذر سے زردے پلاؤ فرنیاں آئیں یعنی لیکن جب مروں تو مجھے اس ظلم سے باز رکھنا کہ غم کے بہانے تم بڑی بڑی پر تکلف دعوتیں بھیج رہے ہو۔مناسب کھانا جو ایسے موقعوں کے لئے مناسب ہو؟ کوئی حرج نہیں ہے اور بعض دفعہ ہم چاول بھی ساتھ بھیج دیتے ہیں اس لئے کہ ان دنوں بعض بیمار ہوتے ہیں، اُن کے کام آجائیں۔اور کچھ دن کے بعد اگر کچھ میٹھا بھی بھیج دیں تکلف سے پاک رہ کر تو منع نہیں ہے۔لیکن جہاں تھی یہ رسمیں تکلف میں داخل ہو جائیں گی اور سوک نئی پر بوجھ بن جائیں گی وہاں منع کرنا پڑے گا۔اس لئے حد اعتدال میں رہا کریں۔اصل تعلیم اسلام کی حد اعتدال ہے جب نظام کی طرف سے دخل دیئے جاتے ہیں تو ہمیشہ حقہ اعتدال کو توڑنے کی وجہ سے دیئے جاتے ہیں۔اگر آپ مناسب حد تک محض تعاون یا سچی اور ہمدردی کے طور پر اور ان لوگوں کو انتظامی مصیبتوں سے نجات دینے کے لئے چند دن ریا سے پاک رہ کر مخفی طور پر کھانے بھجوائیں تو ٹھیک ہے۔لیکن اگر مجھے سچ کر جائیں