مجالس عرفان

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 131 of 142

مجالس عرفان — Page 131

١٣١ زیادہ دلچسپ خیال افروز اور فکر انگیز تھا۔سوال یہ تھا کہ علم نجوم سے کیا مراد ہے ؟ نیز دوست شناسی کی کیا حقیقت ہے؟ حضور نے فرمایا قسمت کی لکیریں یا مزاج کی تعبیریں علم نجوم کے ذریعہ آج کل دنیا میں بڑی بڑی معلومات حاصل ہو رہی ہیں Astronomy علم نجوم کے تدید ساری دنیا میں رونما ہونے والے واقعات کو سٹڈی کیا جارہا ہے۔اس حد تک تو علم نجوم درست ہے مگر یہ کہنا کہ لال ستارے نے فلاں کی قسمت بنائی ہوئی ہے اور اس کی سنڈی سے فعال کی زندگی میں یہ یہ واقعات رونا ہوں گے ، یہ سب گپ شپ ہے۔اسی طرح ہاتھ دکھا کہ قسمت کا حال معلوم کرنا بھی محض گپ ہے۔واقعہ یہ تو ممکن ہے کہ ہاتھ کی بناوٹ سے انسانی مزاج اور اس کے اثرات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہو جس طرح پاؤں دیکھ کر مغرب بھی قیافہ شناسی کیا کرتے تھے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کو درست قرار دیا۔اس حد تک تو دست شناسی درست ہے۔لیکن یہ خیال کرتا کہ ہاتھوں کی لکیروں میں قسمت بنی ہوئی ہے اور یہ یہ واقعات رونما ہوں گے ، یہ سب گئیں ہیں۔چنانچہ بعض بڑے بڑے مشہور نجومی تھے جو احمدی ہوئے تو انہوں نے اس پیشہ سے تو یہ بھی کی اور خود اپنے قصے بھی سنائے کہ جو دست شناسی کیا کرتے تھے اس کی اصل حقیقت کیا تھی۔وہ کہتے ہیں ، ایک لمبے تجربے سے ہم انسانوں کا مزاج سمجھنے لگ جاتے ہیں بعض الفافات کا نہیں علم ہے کہ ہوتے رہتے ہیں اور یہیں یہ بھی پتہ ہے کہ اگر ہم چار پانچ باتیں بیان کریں ، چاران میں سے نہ ہوں پانچویں ہو گئی ہو تو اکثر بیان کرنے والا چار کا ذکر نہیں کرتا صرف پانچویں کا ذکر کر دیتا ہے اور نجومیوں کا خوب پروپیگنڈہ ہوتا ہے کہ فلاں نجومی