مجالس عرفان

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 104 of 142

مجالس عرفان — Page 104

۱۰۴ پہلے بیج کے وقت گزر چکا ہے۔پڑھیں تو سہی پوچھیں تو سہی کسی سے ایک ذرہ کا بھی فرق نہیں ہے۔اُس زمانے میں ایلیاہ کے متعلق یہی اس وقت کی اُمت کا خیال تھا۔اور لکھا ہوا بھی تھا بائیل میں۔تو حضرت مسیح کے حواریوں کو انہوں نے چھیڑنا شروع کیا کہ بھئی تمہارا میں ہو گا سچا ہم مان جائیں گے لیکن وہ ذرا ایلیاہ دکھا دو جس نے آسمان سے آنا تھا۔وہ دیکھتے ہی ہم کہیں گے ہاں ٹھیک ہے۔خدا کے صحیفوں کی بات پوری ہوگئی۔تو حضرت شیخ سے آپ کے حواریوں نے ذکر کیا کہ یہ ہمیں محول کر رہے ہیں۔یہ تمسخر اڑا رہے ہیں کہتے ہیں ایلیاہ دکھاؤ۔تو حضرت کی جو خدا کے نبی تھے اور حضرت ذکریا کے بیٹے تھے۔ان کو بائبل میں یوحنا نام دیا جاتا ہے۔وہ حضرت مسیح سے پہلے نبوت کر رہے تھے۔تو حضرت بیج نے حضرت یوحنا کے متعلق فرمایا۔یہ وہی ایلیاہ ہے جس نے آسمان سے اتر نا تھا ، چاہو تو قبول کرو چاہو تو نہ کر د کتنا عظیم استان فقرہ ہے اور کتنا دائمی صداقت رکھنے والا فقرہ ہے۔آسمان سے لوگ اسی طرح آیا کرتے ہیں۔زمین سے پیدا ہوتا ہے ، اللہ کے تصرف سے کھڑا ہوتا ہے صحیفوں میں اس کو آسمان سے آنا قرار دیتے ہیں۔فرمایا اگر نہیں مانتے تو پھر اس کے بعد اب کوئی آسمان سے انتہ ا تم نہیں دیکھو گے۔جس طرح تم انتظار کر رہے ہو آسمان سے اترنے والے کا وہ اب کبھی نہیں آئے گا بیچ کو گزرے ہوئے اب کتنے سال گزر چکے ہیں۔۱۹۸۴ سال تو ہو چکے ہیں اور آج تک کسی نے عیسی کو آسمان سے اترتا نہیں دیکھا۔۱۹۸۴ سال ہو گئے کہ یہودی ہر سال دیو بہ گریہ پر جا کر کر چکتے ہیں، لہو لہان ہو جاتے ہیں وہاں ایک دیوار ہے فلسطین میں جس کو Wailing Wall کہتے ہیں۔اس سے بحریں مارتے ہیں ، دعائیں کرتے ہیں ، واویلا کرتے ہیں کہ اے خدا اُس