مجالس عرفان

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 103 of 142

مجالس عرفان — Page 103

١٠٣ ہی جھوٹا کیونکہ ترقی کا ہر سچا مگر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیان فرما چکے ہیں۔قوموں کی اصلاح بیماروں کی زندگی کوئی ایک بھی نسخہ نہیں جس کو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان نہ فرمایا ہو۔ورنہ وہ خاتم النبیین نہیں بنتے۔ورنہ کلام الہی کتاب الله کامل کتاب نہیں بنتی۔اگر اس میں سے کوئی چیز باہر گئی ہو یعنی کوئی ایسی ترکیب جو اصلاح احوال کی ہو قوموں کو زندہ کرنے کی ہو۔اگر قرآن میں نہ ہو تو قرآن مکمل کیسے ہوگیا۔تو ہم کہتے ہیں قرآن پر غور کریں قرآن بناتا ہے کہ کبھی خدا تے کسی لٹکتے ہوئے آدمی کو آسمان سے نہیں بھیجا۔کبھی یہ واقعہ نہیں ہوا۔لوگ انتظار ضرور کرتے ہیں۔لیکن پیدا نہ مین سے ہوتا ہے۔جس طرح حضرت عیسی علیہ السلام کے زمانے میں ایلیاہ کا انتظار ہو رہا تھا۔اس میں بھی وہ تصور بدل گئے تھے یعنی آنے والے کی انتظار کا تصور بڑا چکا تھا۔یہودی کہتے تھے حضرت عیسی کے آنے سے پہلے آسمان سے ایلیاہ نبی اُترے گا جو آسمان پر چڑھ کر وہاں انتظار کر رہا ہے۔اور وہ اترے گا اور منادی کرائے گا کہ آنے والا آ رہا ہے ، اپنے دل کے درپٹ کھول لو۔تب مسیح آئیں گے۔یہ بائیل میں لکھا ہوا موجود ہے، یہودی اور عیسائی تاریخ اس پر متفق ہے کہ یہ واقع اس طرح ہوا اور حضرت مسیح آگئے اور کوئی آسمان سے نہ اترا۔کسی نے نہیں دیکھا کہ ایلیاہ لٹکتا ہوا آسمان سے آرہا ہے تب یہودی علماء نے وہی اعتراض کیا جو ہم یہ آج کل کے علماء کر رہے ہیں اُسی طرح مذاق اڑائے جس طرح ہمارے سے اٹائے جاتے ہیں کہ مسیح ابن مریم کے متعلق تو نکھا ہے کہ مریم کا بیٹا میسج آسمان سے نازل ہوگا اور یہ مرزا غلام احمد قادیانی چراغ بی بی کا بیٹا زمین سے پیدا ہوا اور ہمارے پنجاب میں تو شریح کیسے ہو گیا جس نے آسمان سے اترنا تھا اور وہ مریم کا بیٹا تھا۔بالکل ہی واقعہ