مجالس عرفان — Page 102
١٠٢ مسیح موعود کی آمد کے بارے میں بگڑتے ہوئے تصورات دوسرا تصور ہے حضرت عیسی کا۔علماء یہ کہتے ہیں کہ پرانا عیسی زندہ آسمان پر بیٹھا ہوا ہے اور وہ جسم سمیت اکثر بے گا اور امت محمدیہ ہو چاہے کرتی رہے وہ اُترے گا اور ساری دُنیا اُمت محمدیہ کے لئے خود فتح کرے گا۔اور فتح کر کے ساری دنیا کی سلطنتوں کی چابیاں مسلمانوں کے سپرد کردے گا۔اور بیٹھے بیٹھے قعر مذلت میں گری ہوئی قوم اچانک دُنیا کی بادشاہ بن جائے گی۔ہم اس تصور میں بھی آپ سے اختلاف رکھتے ہیں۔ہم کہتے ہیں کہ تمثیلات ہوتی ہیں ، یہ پیشگوئیاں رومانی معنی رکھتی ہیں اور جب بھی لوگ ٹھوکر کھا کر ان کو ظاہری معنی دینے لگ جاتے ہیں وہ آنے والے کو نہیں پہچان سکتے کیونکہ آنے والے کا رخ کسی اور طرف ہوتا ہے اور وہ کسی اور طرف منہ کر کے بیٹھے رہ جاتے ہیں۔ہمیشہ انہوں نے اسی طرح MISS کیا ہے۔آپ آسمان کی طرف دیکھ رہی ہوں کہ اوپر سے کوئی اترے گا۔تو اس رستے سے آیا ہی نہیں۔تو یہ دھو کہ ہمیشہ پہلے بھی لگتا رہا ہے۔اور یہ کبھی نہیں ہوا کہ قوم کوئی بے عملی کی حالت میں پڑی ہو گناہوں میں ملوث ہو، رشوت ستانی، جھوٹ، دنیا داری دکھا دئے ہر قسم کے رسم رواج میں اس کا انگ انگ بندھ جائے اور خدا تعالے ان کی ان سب باتوں سے صرف نظر کرتے ہوئے اچانک ان کو دنیا کا بادشاہ بنا دے۔آسمان سے کوئی اترے اور وہ ساری دُنیا اُن کے لئے فتح کرے اور وہ دیکھتے ہی دیکھتے ان کو بلا ما است کے منصب پر کھڑا کر دے۔یہ تو واقعہ ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ پہلے کبھی نہیں ہوا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ترقی کا گر بیان نہیں فرمایا وہ گر ہے