مجالس عرفان — Page 53
۵۳ امام مہدی کے متعلق جو خونی مہدی کا تصور ہے ہم اس کو تسلیم ہی نہیں کرتے۔ہم تو مانتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو پینگوئیاں کی ہیں ان کے مطابق واقعہ رونما ہوگا۔کبھی دُنیا میں ایسا واقعہ نہیں ہوا کہ امام آئے قوم نہتی بیٹھی رہے اور امام تلوار پکڑے اور دنیا کو فتح کر کے قوم کے سپرد کر دے۔آج تک تاریخ اسلام میں ایک واقعہ بھی ایسا نہیں ہوا۔ہوتا یہ ہے کہ وہ دعوی کرتا ہے۔لوگ اس کو مارتے ہیں کاٹتے ہیں گھر جلاتے ہیں ان کے ماننے والوں کے۔انتہائی ظلم کی چکی میں وہ لوگ پیسے جاتے ہیں جس طرح سونا آگ میں پڑ کر کندن بنتا ہے۔اسی طرح ان کے کردار کی تعمیر ہوتی ہے۔وہ مظالم برداشت کرتے ہیں۔اس کے باوجود پھیلتے چلے جاتے ہیں۔ان کو قربانیوں کے بعد غلبہ عطا کیا جاتا ہے۔قربانیوں کے بغیر تو کبھی غلبہ عطا ہی نہیں ہوا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جس راستے کو اختیار فرمایا۔ہمارے نزدیک اس راستے کے سوا اگر کسی اور نتھنے کا کوئی قوم انتظار کرتی ہے تو وہ اپنے خوابوں کی جنت میں بستی رہے۔کبھی یہ واقعہ نہیں ہو گا۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قوم کو کس طرح ہندہ کیا تھا احدمیں سے گزارا تھایا کہ یہ سے گزارا تھا، طائف سے آپ زخمی ہوتے ہوئے گزرے، کتے سکسی گلیوں میں آپ کے غلام گھیٹے گئے، ان کے اموال لوٹے گئے، ان کی بیویوں کو غیروں نے طلاقیں دیں ، ان کی اولاد کو ورثے سے محروم کیا گیا؟ ان کے بیج بند کئے گئے۔یہ ہے Phenomena جو خدا کی طرف سے آنے والے کے مقدر میں ہے اور اس Phenomena سے جو قوم میز اور رضا کے ساتھ گزرتی ہے۔وہ لازماً ایک دن غالب آجاتی ہے کبھی جلدی کبھی ذرا دیر کے بعد۔مثلاً حضرت موسیٰ کو زندگی میں غلبہ عطا