مجالس عرفان — Page 22
۲۲ میں 190 ء میں بالخصوص پیش کی گئی۔وہ حدیث یہ ہے کہ میرے بعد میں جال آئیں گے۔وہ سب جھوٹے ہوں گے۔ان میں سے ہر ایک یہ زکم کرے گا کہ وہ نبی اللہ ہے۔لیکن وہ بنی نہیں ہوگا۔ولا نبی بعدی۔میرے بعد کوئی بنی نہیں۔یہ ہے وہ حدیث جس کے بعد علماء کہتے ہیں اب بتاؤ اب کسی طرح تم اس حدیث کے دائرے سے نکل سکتے ہو۔ہم کہتے ہیں۔ہم ہر گز نہیں نکلیں گے۔حضرت محمد مصطفی کے کلام کے دائرے سے نکلنا ہلاکت ہے۔ہم سو فیصدی اس حدیث کو تسلیم کرتے ہیں۔لیکن آپ سے یہ درخواست کرتے ہیں کہ اس مضمون پر آنحضور نے کچھ اور بھی فرمایا ہے۔اس کو بھی تو ساتھ رکھیئے۔ایک متکلم کے آدھے کلام کو لے لینا اور آدھے کو چھوڑ دینا یہ تقوی کے بھی خلاف ہے۔اور انصاف کے بھی خلاف ہے۔اگر نبوت کے مضمون پر پر صرف یہی حدیث ہوتی تو ٹھیک ہے بات ختم ہو جاتی۔ہم سمجھتے عربوں کو قائم کا محاورہ نہیں آتا تھا۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تشریح کردی مگر حضور نے کچھ اور بھی تو فرمایا ہے۔چنانچہ ملا علی قاری نے جو علمائے اہل سنت میں سب سے چوٹی کا مقام رکھتے ہیں اور ان کو علماء کا بھی امام سمجھا جاتا ہے۔انہوں نے بعض اور حدیثیں اکٹھی کر کے پیسٹلہ کھول دیا ہے۔وہ یہ کہتے ہیں کہ ایک طرف یہ حدیث ہے اور دوسری طرف ایک اور حدیث ہے۔اور وہ یہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا بیٹا ابراہیم جب خدا کو پیارا ہوا تو اس کو لحد میں اتارتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر جو خاص ایک مقام ہوتا ہے خدا کے خوف کا اور تقوی کا یہ کلمہ فرمایا کو عاش لكان مِدٌ يُعَا نَيا " یہ میرا بیٹا اگر زندہ رہتا تو لانہ کا سچا نبی بنتا