مجالس عرفان — Page 110
11° آسمان سے زنجیر بھی اتر رہی ہے اور بندہ پیٹا جا رہا ہے اور پھر ساتویں آسمان کا بھی ذکر ہے لیکن کیوں ترجمہ نہیں کرتے۔اس کا ترجمہ تو یہ کیا جاتا ہے کہ اللہ اس کے درجے بلند کرے گا اس کو اپنا قرب عطا فرماتا ہے۔زنجیر سے مراد کیا ہے ؟ زیخیر تو طبقہ یہ طبقہ ہوتی ہے۔حلقوں میں بٹی ہوئی ہوتی ہے تو مراد یہ ہے کہ جتنا خدا کے حضور کوئی عاجز ہی کرے گا جتنا مجھکے گا اتنے زنجیر کے حلقے وہ خدا کے قریب ہوتا چلا جائے گا اتنے درجے وہ بلند ہو گا۔تو یہ تمہارے اپنے اختیار میں ہے۔اگر تم قرب الہی چاہتی ہو اور ساتویں آسمان پر جانا پسند کرتی ہو۔خدا کے قرب کے لحاظ سے تو اتنا ہی عجز اختیار کرد۔خدا کے حضور تکبر اس کے ہاں قبول نہیں ہوتا ، عاجہ بندی بندگی خدا کی تو اللہ تمہارا کہ فع کرنا شروع کرے گا اور وہ کہ فتع ساتویں آسمان تک ہو جائے گا۔اب بتائیے یہ مفہوم ہے فوراً ذہن میں آنا ہے۔جسم سمیت والا رفع کا معنی تو کہیں ٹھیک بیٹھتا ہی نہیں۔آگے سُنیے آپ کو آنحضور نے ایک دعا سکھائی جو دو سجدوں کے درمیان آپ پڑھتی ہیں اور مرد بھی پڑھتے ہیں۔اس میں آخر میں ایک لفظ آتا ہے وارفعنِی۔اللَّهُمَّ اغْفِرُ لِي وَارْحَمْنِي وَاهْدِنِي وَعَافِنِی اِس میں آخر میں آتا ہے وار فعنی اے خدا ہمارا کہ فع فرمادے۔اب بتائیے کیا سکھایا آپ کو کیا دعا مانگو دوسجدوں کے درمیان ہم یہ دعا پڑھتے ہیں کہ اے خدا ہمارا کہ فع فرما ہے۔اگر علماء کا یہ ترجمہ درست ہے کہ کرفع سے مراد جسم سمیت اٹھانا ہے تو ایک سجدے سے اتنا تھک جاتی ہیں آپ کہتی ہیں مجھے اگلے سجدے سے پہلے پہلے جسم سمیت اُٹھا ہی لے ، یہاں رہنے ہی نہ دے ہمیں دوسرے سجدے کی مصیبت سے بچ جاؤں کس قدر تمسخر ہے۔کلام الہی اور کلام رسول