محضرنامہ — Page 69
49 رکھتے ہیں اور مشہود کبریائی حضرت باری تعالیٰ ہمیشہ تنقل اور ریتی اور انکسار میں رہتے ہیں اور اپنی اصل حقیقت ذلت اور مفلسی اور ناداری اور پر تقصیری اور خطا داری سمجھتے ہیں اور ان تمام کمالات کو جو ان کو دیئے گئے ہیں اس عارضی روشنی کی مانند سمجھتے ہیں جو کسی وقت آفتاب کی طرف سے دیوار پر پڑتی ہے جس کو حقیقی طور پر دیوار سے کچھ بھی علاقہ نہیں ہوتا اور لباس مستعار کی طرح معرض زوال میں ہوتی ہے۔پس وہ تمام خیر و خوبی خدا ہی میں محصور رکھتے ہیں اور تمام نیکیوں کا چشمہ اُسی کی ذات کامل کو قرار دیتے ہیں اور صفات الہیہ کے کامل شهود سے اُن کے دل میں حق الیقین کے طور پر بھر جاتا ہے کہ ہم کچھ چیز نہیں ہیں یہاں تک کہ وہ اپنے وجود اور ارادہ اور خواہش سے بجلی کھوئے جاتے ہیں اور عظمت الہی کا پر جوش دریا اُن کے دلوں پر ایسا محیط ہو جاتا ہے کہ ہزارہا طور کی نیستی اُن پر وارد ہو جاتی ہے اور شرک خفی کے ہر یک رگ و ریشہ سے سبکتی پاک اور منزہ ہو جاتے ہیں۔“ (براہین احمدیه صفحه ۵۱۰ تا ۵۲۳ حاشیه در حاشیه ع۳) نور فرقاں ہے جو سب ٹوروں سے اعلی نکلا ہے پاک وہ جس سے یہ انوار کا دریا نکلا حق کی توحید کا مُرجھا ہی چلا تھا پودا جو ناگہاں غیب سے یہ چشمہ اصفی نکلا یا الهی ! تیرا فرقاں ہے کہ اک عالم ہے بہ جو ضروری تھا وہ سب اس میں مہیا نکلا سب جہاں چھان چکے ساری دُکانیں رکھیں : مئے عرفاں کا یہی ایک ہی شیشا نکلا کیس سے اس نور کی ممکن ہو جہاں میں تشبیہ ؟ وہ تو ہر بات میں ہر وصف میں یکتا نکلا سمجھے تھے کہ موسیٰ کا عصا ہے فرقاں ؟ پھر جو سوچا تو ہر اک لفظ مسیحا نکلا ہے قصور اپنا ہی اندھوں کا وگرنہ وہ نور ہے ایسا چمکا ہے کہ صد نیتر بیضا نکلا