محضرنامہ — Page 70
زندگی اکیسوں کی کیا خاک ہے اس دنیا میں : جن کا اس نور کے ہوتے بھی دل اعملی نکلا براہین احمدیه صفحه ۲۹۵ حاشیه در حاشیه ۲ ) جمال وحسن قرآن نور جان ہر مسلمان ہے قمر ہے چاند اوروں کا ہمارا چاند قرآن ہے نظیر اس کی نہیں جمتی نظر میں بین کر کر دیکھا بھلا کیونکر نہ ہو سکتا کلام پاک رحماں ہے بهار جاوداں پیدا ہے اُس کی ہر عبارت میں نہ وہ خوبی چین میں ہے نہ اُس سا کوئی بتاں ہے کلام پاک یزداں کا کوئی ثانی نہیں ہرگز اگر کو گوٹے عثماں ہے وگر لعل بدخشاں ہے خدا کے قول سے قول بشر کیونکر برا بر ہو وہاں قدرت یہاں درماندگی فرق نمایاں ہے ملائک جس کی حضرت میں کریں اقرار لا علمی سخن میں اُس کے ہمسائی کہاں مقدر انساں ہے بنا سکتا نہیں رک پاؤں کیڑے کا کیٹر ہرگز تو پھر کیونکر بنانا نوری کا اس پہ آساں ہے ارے لوگو کرد کچھ پاس شان کبریائی کا زباں کو تھام لو آپ بھی اگر کچھ لوٹے ایماں ہے خدا سے غیر کو ہمتا بنانا سخت کفراں ہے خدا سے کچھ ڈرویا رو یہ کیس کذب بہتاں ہے اگر اقرار ہے تم کو خدا کی ذاتِ واحد کا تو پھر کیوں اس قدر دل میں تمہارے شرک پنہاں ہے یہ کیسے پڑ گئے دل پر تمہارے جہل کے پردے خط کرتے ہو باز آؤ اگر کچھ خوف یزداں ہے ہمیں کچھ رکیں نہیں بھائیو نصیحت ہے غریبانہ کوئی جو پاک دل ہوئے دل و جاں اُس پر قربان ہے برا بین احمدیہ صفحه ۱۸۸)