محضرنامہ

by Other Authors

Page 68 of 195

محضرنامہ — Page 68

YA روحانی ذوق اور محبت کے بھرے ہوئے جوش سے اخلاق فاضلہ اُن سے صدر ہوتے ہیں اس کی نظیر دنیا میں نہیں پائی جاتی۔اگر چہ منہ سے ہر ایک شخص دعوی کر سکتا ہے اور لاف و گزاف کے طور پر ہریک کی زبان چل سکتی ہے مگر جو تجربہ صحیحہ کا تنگ دروازہ ہے اُس دروازہ سے سلامت نکلنے والے یہی لوگ ہیں۔اور دوسرے لوگ اگر کچھ اخلاق فاضلہ ظاہر کرتے بھی ہیں تو تکلف اور تصنع سے ظاہر کرتے ہیں اور اپنی آلودگیوں کو پوشیدہ رکھ کر اور اپنی بیماریوں کو چھپا کر اپنی جھوٹی تہذیب دکھلاتے ہیں اور ادنی اردنی امتحانوں میں اُن کی قلعی کھل جاتی ہے اور تخلف او تصنع اخلاق فاضلہ کے ادا کرنے میں اکثر وہ اس لئے کرتے ہیں کہ اپنی دونیا اور معاشرت کا حسن انتظام وہ اسی میں دیکھتے ہیں۔اور اگر اپنی اندرونی آلائشوں کی ہر جگہ پیروی کریں تو پھر مہمات معاشرت میں خل پڑتا ہے۔اور اگرچہ بقدر استعداد فطرتی کے کچھ تخم اخلاق کا اُن میں بھی ہوتا ہے مگر وہ اکثر نفسانی خواہشوں کے کانٹوں کے نیچے دبا رہتا ہے اور بغیر آمیزش اعراض نفسانی کے خالص اللہ ظاہر نہیں ہوتا چہ جائیکہ اپنے کمال کو پہنچے۔اور خالص اللہ انہیں میں وہ تم کمال کو پہنچتا ہے کہ جو خدا کے ہو رہتے ہیں اور جن کے نفوس کو خدائے تعالیٰ غیریت کی کوٹ سے بجلی خالی پا کر خود اپنے پاک اخلاق سے بھر دیتا ہے اور اُن کے دلوں میں وہ اخلاق ایسے پیارے کر دیتا ہے جیسے وہ اس کو آپ پیارے ہیں پس وہ لوگ فانی ہونے کی وجہ سے تخلق باخلاق اللہ کا ایسا مرتبہ حاصل کر لیتے ہیں کہ گویا وہ خدا کا ایک آلہ ہو جاتے ہیں جس کے توسط سے وہ اپنے اخلاق ظاہر کرتا ہے اور اُن کو ٹھو کے اور پیاسے پا کر وہ آب زلال ان کو اپنے اُس خاص چشمہ سے پلاتا ہے جس میں کسی مخلوق کو على وجہ الاصالت اس کے ساتھ شرکت نہیں۔اور منجملہ ان عطیات کے ایک کمالِ عظیم جو قرآن شریف کے کامل تابعین کو دیا جاتا ہے عبود تیتے ہے۔یعنی وہ باوجود بہت سے کمالات کے ہر وقت نقصان ذاتی اپنا پیش نظر