محضرنامہ — Page 67
ہیں اور کچھ بیان نہیں کر سکتے کہ کیوں جلتے ہیں اور تفہیم اور نفتیم سے صم بکم ہوتے ہیں اور ہر یک مصیبت اور ہر ایک رُسوائی کے سہنے کو تیار رہتے ہیں اور اُس سے لذت پاتے ہیں سے عشق است که بر خاک مذلت غلطاند و عشق است که بر آتش سوزان بنشاند کس بر کسے سرند ہر جاں نہ فشاند به عشق است که این کار بصد صدق کناند ازاں جملہ اخلاق کے فاضلہ ہیں جیسے سخاوت، شجاعت، ایثار، علو همت، وفور شفقت، حلم، حیا، مودت ، یہ تمام اخلاق بھی بوجہ احسن اور انسب انہیں سے صادر ہوتے ہیں اور وہی لوگ به یمن متابعت قرآن شریف و فاداری سے اخیر عمر تک ہر ایک حالت میں ان کو بخوبی و شائستگی انجام دیتے ہیں اور کوئی انقباض خاطر ان کو ایسا پیش نہیں آتا کہ جو اخلاقی حسنہ کے کما میبینی صادر ہونے سے ان کو روک سکے۔اصل بات یہ ہے کہ جو کچھ خوبی علمی یا عملی یا اخلاقی انسان سے صادر ہو سکتی ہے وہ صرف انسانی طاقتوں سے صادر نہیں ہوسکتی بلکہ اصل موجب اس کے صدور کا فضل الہی ہے۔پس چونکہ یہ لوگ سب سے زیادہ مور فضل الہی ہوتے ہیں اس لئے خود خداوند کریم اپنے تفصیلات لامتناہی سے تمام خوبیوں سے اُن کو تمتع کرتا ہے یا دوسرے لفظوں میں یوں سمجھو کہ حقیقی طور پر بجز خدا تعالیٰ کے اور کوئی نیک نہیں۔تمام اخلاق فاضلہ اور تمام نیکیاں اُسی کے لئے مسلم ہیں۔پھر جس قدر کوئی اپنے نفس اور ارادت سے فانی ہو کر اس ذات خیر محض کا قرب حاصل کرتا ہے اُسی قدر اخلاقِ الہیتہ اس کے نفس پر منعکس ہوتے ہیں۔بس بندہ کو جو جو خوبیاں اور پچی تہذیب حاصل ہوتی ہے وہ خدا ہی کے قرب سے حاصل ہوتی ہے اور ایسا ہی چاہیے تھا کیونکہ مخلوق فی ذاتہ کچھ چیز نہیں ہے۔سو اخلاق فاضلہ البیتہ کا انعکاس انہیں کے دلوں پر ہوتا ہے کہ جو لوگ قرآن شریف کا کامل اتباع اختیار کرتے ہیں اور تجربہ صحیحہ بتلا سکتا ہے کہ جس مشرب صافی اور