محضرنامہ — Page 44
سلام مهم عالم کے جو ہمارے آرام کے لئے بنائے گئے۔ایسا ہی جن جن چیزوں کی ہمیں ضرورت تھی وہ تمام چیزیں ہماری پیدائش سے پہلے ہی ہمارےلئے مہیا کی گئیں اور یہ سب اس وقت کیا گیا جب کہ ہم خود بخود موجود نہ تھے نہ ہمارا کوئی عمل تھا۔کون کہ سکتا ہے کہ سورج میرے عمل کی وجہ سے پیدا کیا گیا یا زمین میرے کسی شدھ کرم کے سبب سے بنائی گئی۔غرض یہ وہ رحمت ہے جوانسان اور اس کے عملوں سے پہلے ظاہر ہو چکی ہے جو کسی کے عمل کا نتیجہ نہیں (۲) دوسری رحمت وہ ہے جو اعمال پر مرتب ہوتی ہے اور اس کی تصریح کی کچھ ضرورت نہیں۔ایسا ہی قرآن شریف میں وارد ہے کہ خدا کی ذات ہر ایک عیب سے پاک ہے اور ہر ایک نقصان سے مبرا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ انسان بھی اس کی تعلیم کی پیروی کر کے عیبوں سے پاک ہوا اور وہ فرماتا ہے مَنْ كَانَ فِي هَذِهِ أَعْلَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ آغمی یعنی جو شخص اس دُنیا میں اندھا رہے گا اور اس ذات بے چون کا اس کو دیدار نہیں ہوگا وہ کرنے کے بعد بھی اندھا ہی ہوگا اور تاریکی اُس سے جدا نہیں ہوگی کیونکہ خدا کے دیکھنے کے لئے اسی دنیا میں حواس ملتے ہیں۔اور جو شخص ان حواس کو دنیا سے ساتھ نہیں لے جائے گا وہ آخرت میں بھی خدا کو دیکھ نہیں سکے گا۔اس آیت میں خدا تعالیٰ نے صاف سمجھا دیا ہے کہ وہ انسان سے کس ترقی کا طالب ہے اور انسان اس کی تعلیم کی پیروی سے کہاں تک پہنچ سکتا ہے۔پھر اس کے بعد وہ قرآن شریف میں اس تعلیم کو پیش کرتا ہے جس کے ذریعہ سے اور جس پر عمل کرنے سے اسی دنیا میں دیدار الہی میسر آسکتا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے مَن كَانَ يَرْجُوا لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ اَحَدًا یعنی جو شخص چاہتا ہے کہ اسی دنیا میں اس خدا کا دیدار نصیب ہو جائے جو حقیقی خدا اور پیدا کنندہ ہے پس چاہیے کہ وہ ایسے نیک عمل کرے جن میں کسی قسم کا فساد نہ ہو یعنی عمل اس کے نہ لوگوں کے دکھلانے کے لئے ہوں نہ ان کی وجہ سے دل میں تکبر پیدا ہو کہ میں ایسا ہوں ایسا ہوں۔اورنہ وہ تمل ناقص اور ناتمام ہوں اور نہ