محضرنامہ — Page 45
اُن میں کوئی ایسی بد بو ہو جو محبت ذاتی کے برخلاف ہو بلکہ چاہیے کہ صدق اور وفاداری سے بھرے ہوئے ہوں اور ساتھ اس کے یہ بھی چاہیے کہ ہر ایک قسم کے شرک سے پر ہیز ہو۔نہ سورج نہ چاند نہ آسمان کے ستارے نہ ہوا نہ آگ نہ پائی نہ کوئی اور زمین کی چیز معبود ٹھہرائی جائے اور نہ دنیا کے اسباب کو ایسی عزت دی جائے اور ایسا ان پر بھروسہ کیا جائے کہ گویا وہ خدا کے شریک ہیں اور نہ اپنی ہمت اور کوشش کو کچھ چیز سمجھا جائے کہ یہ بھی شرک کی قسموں میں سے ایک قسم ہے بلکہ سب کچھ کر کے یہ سمجھا جائے کہ ہم نے کچھ نہیں کیا۔اور نہ اپنے علم پر کوئی غرور کیا جائے اور نہ اپنے عمل پر کوئی ناز بلکہ اپنے تئیں فی الحقیقت جاہل سمجھیں اور کاہل سمجھیں، اور خدا تعالیٰ کے آستانہ پر ہر ایک وقت روح گرمی رہے اور دعاؤں کے ساتھ اس کے فیض کو اپنی طرف کھینچا جائے اور اس شخص کی طرح ہو جائیں کہ جوسخت پیاسا اور بے دست وپا بھی ہے اور اس کے سامنے ایک چشمہ نمودار ہوا ہے۔نہایت صافی اور شیریں۔پس اُس نے افتان و خیزاں بہر حال اپنے تئیں اس چشمہ تک پہنچا دیا اور اپنے لہوں کو اس چشمہ پر رکھ دیا اور علیحدہ نہ ہوا جب تک سیراب نہ ہوا۔اور پھر قرآن میں ہمارا خدا اپنی خوبیوں کے بارے میں فرماتا ہے قُلْ هُوَ اللهُ اَحَدُ اللهُ الصَّمَدُ لَم يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا اَحَدٌ ) یعنی تمہارا خدا وہ خدا ہے جو اپنے ذات اور صفات میں واحد ہے۔نہ کوئی ذات اس کی ذات جیسی از لی اور ابدی یعنی انا دی اور اکال ہے۔نہ کسی چیز کے صفات اس کی صفات کے مانند ہیں۔انسان کا علم کیسی معلم کا محتاج ہے اور پھر محدود ہے مگر اس کا علم کسی معلم کا محتاج نہیں اور بائیں ہمہ غیر محدود ہے۔انسان کی شنوائی ہوا کی محتاج ہے اور محدود ہے مگر خدا کی شنوائی ذاتی طاقت سے ہے اور محمد و دنہیں۔اور انسان کی بینائی سورج یا کسی دوسری روشنی کی محتاج ہے اور پھر محدود ہے مگر خدا کی بینائی ذاتی روشنی سے ہے اور غیر محدود ہے۔ایسا ہی انسان۔