محضرنامہ

by Other Authors

Page 39 of 195

محضرنامہ — Page 39

۳۹ ہیں۔یہ وحسن ہے جو اپنی قومی کششوں کے ساتھ حسن بشرہ سے بہت بڑھ کر ہے کیونکہ چین بشرہ صرف ایک یا دو شخص کے فانی عشق کا موجب ہو گا جو جلد زوال پذیر ہو جائے گا اور اس کی کشش نہایت کمزور ہوگی۔لیکن وہ روحانی حسن جس کو حسین معاملہ سے موسوم کیا گیا ہے وہ اپنی کشتوں میں ایسا سخت اور زبردست ہے کہ ایک دنیا کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے اور زمین و آسمان کا ذرہ ذرہ اس کی طرف کھیچا جاتا ہے اور قبولیت دعا کی بھی در حقیقت فلاسفی یہی ہے کہ جب ایسا روحانی حسن والا انسان جس میں محبت الہیہ کی روح داخل ہو جاتی ہے جب کسی غیر ممکن اور نہایت مشکل امر کے لئے دعا کرتا ہے اور اس دُعا پر پورا پورا زور دیتا ہے تو چونکہ وہ اپنی ذات میں حسن روحانی رکھتا ہے۔اس لئے خدا تعالیٰ کے امر اور اذن سے اس عالم کا ذرہ ذرہ اس کی طرف کھینچا جاتا ہے۔پس ایسے اسباب جمع ہو جاتے ہیں جو اس کی کامیابی کے لئے کافی ہوں۔تجربہ اور خدا تعالیٰ کی پاک کتاب سے ثابت ہے کہ دنیا کے ہر ایک ذرہ کو طبعاً ایسے شخص کے ساتھ ایک عشق ہوتا ہے اور اس کی دُعائیں ان تمام ذرات کو ایسا اپنی طرف کھینچتی ہیں جیسا کہ آہن ربا لوہے کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔پس غیر معمولی اتیں جن کا ذکرکسی علم طبعی اورفلسفہ میں نہیں اس کشش کے باعث ظاہر ہو جاتی ہیں اور وہ کشش طبعی ہوتی ہے جب سے کہ صانع مطلق نے عالم اجسام کو ذرات سے ترکیب دی ہے ہر ایک ذرے میں و کشش رکھی ہے اور ہر ایک ذرہ رُوحانی محسن کا عاشق صادق ہے اور ایسا ہی ہر ایک سعید روح بھی کیونکہ وہ حسن تجلی گاہِ حق ہے۔وہی حسن تھا جس کے لئے فرمایا اُسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلا إبليس۔اور اب بھی بہتیرے ابلیس ہیں جو اسی حسن کو شناخت نہیں کرتے مگر وہ حُسن بڑے بڑے کام دکھلاتا رہا ہے۔نوح میں وہی حسن تھا جس کی پاس خاطر حضرت عزت جل شانہ کو منظور ہوئی اور تمام منکروں کو پانی کے عذاب سے ہلاک کیا گیا۔پھر اس کے بعد موٹی بھی وہی حسین روحانی