محضرنامہ — Page 38
ہوتا ہے اور ہمیشہ سے وہ کٹر مخفی جس کا نام خدا ہے نبیوں کے ذریعہ سے ہی شناخت کیا گیا ہے ور نہ وہ توحید جو خدا کے نزدیک توحید کہلاتی ہے جس پر عملی رنگ کامل طور پر چڑھا ہوتا ہے اس کا حاصل ہونا بغیر ذریعہ نہی کے جیسا کہ خلاف عقل ہے ویسا ہی خلاف تجارب سالکین ہے ؟ (حقیقة الوحی صفحه ۱۱۲ ۱۱۳) حضرات عیسائی خوب یاد رکھیں کہ مسیح علیہ اسلام کا نمونہ قیامت ہوناسر موثابت نہیں اور نہ عیسائی جی اُٹھے بلکہ مردہ اور سب مردوں سے اول درجہ پر اور تنگ و تاریک قبروں میں پڑے ہوئے ہیں اور مشرک کے گڑھے میں گرے ہوئے ہیں۔نہ ایمانی رُوح اُن میں ہے نہ ایمانی روح کی برکت بلکہ آدٹی سے ادنی درجہ توحید کا جو مخلوق پرستی سے پر ہیز کرنا ہے وہ بھی ان کو نصیب نہیں ہوا اور ایک اپنے بیسے عاجز اور ناتو ان کو خالق سمجھ کر اس کی پرستش کر رہے ہیں۔یاد رہے کہ توحید کے تین درجے ہیں سب سے ادنی درجہ یہ ہے کہ اپنے جیسی مخلوق کی پرستش نہ کریں۔نہ پتھر کی، نہ آگ کی ، نہ آدمی کی شنکی سترہ کی دوسرا درجہ یہ ہے کہ اسباب پربھی ایسے نہ گریں کہ گو یا ایک قسم کا اُن کو ربوبیت کے کارخانہ میں منتقل خیل قرار دیں بلکہ ہمیشہ نقیب پر نظر ہے نہ اسباب پر۔تیسرا درجہ توحید کا یہ ہے کہ تجلیات الہیہ کا کامل مشاہدہ کر کے ہر یک غیر کے وجود کو کا لعدم قرار دیں اور ایسا ہی اپنے وجود کو بھی۔غرض ہر یک چیز نظر میں فانی دکھائی دے بجز اللہ تعالیٰ کی ذات کامل الصفات کے۔یہی روحانی زندگی ہے کہ یہ مراتب ثلاثہ توحید کے حاصل ہو جائیں آب غور کر کے دیکھ لو کہ روحانی زندگی کے تمام جاودانی چینے محض حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی طفیل دنیا میں آئے ہیں۔(آئینہ کمالات اسلام صفحه ۲۲۳ ۲۲۴) " رُوحانی قالب کے کامل ہونے کے بعد محبت ذاتیہ اللہ کا شعلہ انسان کے دل پر ایک روح کی طرح پڑتا ہے اور دائمی حضور کی حالت اس کو بخش دیتا ہے۔کمال کو پہنچتا ہے اور تب ہی روحانی ن اپنا پورا جلوہ دکھاتا ہے لیکن پیٹس جو روحانی سن ہے جس کوشین معاملہ کے ساتھ موسوم کرسکتے