محضرنامہ — Page 30
ثابت نہیں ہوتا کہ حیات شیح کا عقیدہ رکھنے والے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو افاضہ فیض کے لحاظ سے بھی سب نبیوں کا ختم کرنے والا نہیں سمجھتے بلکہ یقین رکھتے ہیں کہ وہ ایک ہی نہی جو اُس وقت زندہ تھا اُس کی فیض رسانی کی قوت کو بھی آپ ختم نہ فرما سکے بلکہ نعوذ باللہ وہ اسرائیلی نبی اس حال میں فوت ہوا کہ امت محمدیہ کا آخری رُوحانی محسن بن چکا تھا۔غور فرمائیے کہ کیا جسمانی اور روحانی دونوں معنوں میں حضرت عیسی علیہ السلام کو خاتم النبتی تسلیم نہیں کیا جا رہا ؟ کیا یہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صریح گستاخی نہیں ؟ کیا یہ آیت خاتم النبیین کی روح کو سبوتاثر کرنے کے مترادف نہیں ؟ اور پھر بھی یہ دعوی ہے کہ احمدی خاتم النبیین کے منکر اور ہم خاتم النبیین کے قائل بلکہ محافظ ہیں۔کیا دنیا سے انصاف بالکل اُٹھ چکا ہے ؟ کیا عقل کے تمام تقاضوں کو بالائے طاق رکھ دیا جائے گا ؟ کیا اس قصے کو عدل کے ترازو پر نہیں تولا جائے گا بلکہ محض عددی اکثریت کے زور پر حق و باطل اور اخروی نجات کے فیصلے ہوں گے ؟ خدا نہ کرے کہ ایسا ہو۔خدا ہرگز نہ کرے کہ ایسا ہو لیکن ایسا اگر ہو توپھر تقوی اللہ کا دعوی کیوں کیا جاتا ہے۔کیوں نہیں اسے جنگل کا قانون کہا جاتا اور کیوں اس نا انصافی کے لئے اللہ اور رسول کے مقدس نام استعمال کئے جاتے ہیں۔ویرانے کا نام کوئی اچھا سا بھی رکھ لیں ویرانہ ویرانہ ہی رہے گا۔ہمیں یہ کہا جاتا ہے کہ تم مطلق طور پر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی تسلیم نہیں کرتے اور تاویلیں کر کے ایک اُمتی اور ظلی نبی کے آنے کی راہ نکال لیتے ہو اور اس طرح ختم نبوت کو توڑنے کے مرتکب ہو جاتے ہو۔ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ایک ایسے امتی نبی کا امت محمدیہ ہی میں پیدا ہونا جو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا کامل غلام ہو اور اپنے ہر روحانی مرتبے میں سرتا پا آپ ہی کے فیض کا مرہونِ منت ہو ہر گز این خاتم النبیین کے مفہوم کے منافی نہیں کیونکہ فانی اور کامل غلام کو اپنے آقا سے جدا نہیں کیا جاسکتا۔ہم اس بات کے مکلف ہیں کہ اپنے اس موقف کو قرآن حکیم سے، ارشادات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے ، اقوال بزرگان اقت