محضرنامہ — Page 19
14 تم بطور نفل ادا کرنا چاہو حضور نے پھر فرمایا کہ رمضان کے روزے رکھو۔اس نے پوچھا کہ رمضان کے روزوں کے علاوہ اور بھی روزے فرض ہیں حضور نے فرمایا نہیں سوائے اسکے کہ تم بطور نفل رکھنا چاہو۔پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سامنے زکوۃ کا ذکر فرمایا۔اس نے کہا کہ اس کے علاوہ بھی اور ہے حضور نے فرمایا کہ نہیں سوائے اس کے کہ تم بطور نفضل زیادہ ادا کرنا چا ہو۔و شخص مجلس سے اٹھ کر چل پڑا اور یہ کہہ رہا تھا کہ بخدا میں ان احکام نہ زیادہ کروں گا اور نہ ان میں کمی کروں گا۔۔۔۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر یہ اپنے اس قول میں سچا ثابت ہوا تو ضرور کامیاب ہو جائے گا۔- " مَنْ صَلَّى صَلوتَنا وَاسْتَقْبَلَ قِبْلَتَنا وَ اَمَل ذَبِيحَتَنَا فَذَلِكَ الْمُسْلِمُ الَّذِي لَهُ ذِمَةُ اللهِ وَذِمَةُ رَسُولِهِ فَلَا تُخْفِرُوا اللهَ فِي ذِمَّتِهِ بخاری جلد اول باب فضل استقبال القبلة) " جس شخص نے وہ نماز ادا کی جو ہم کرتے ہیں۔اُس قبلہ کی طرف رخ کیا جس کی طرف ہم رخ کرتے ہیں اور ہمارا ذبیحہ کھایا وہ مسلمان ہے جبر کے لئے اللہ اور اُس کے رسوا کا ذمہ ہے۔پس تم اللہ کے دئے ہوئے ذمے میں اس کے ساتھ دغا باز ی نہ کروایاہے ہمارے مقدس آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ احسان عظیم ہے کہ اس تعریف کے ذریعہ آنحضور نے نہایت جامع و مانع الفاظ میں عالمی اسلامی کے اتحاد کی بین الاقوامی بنیا د رکھ دی ہے اور ہر مسلمان حکومت کا فرض ہے که اس بنیاد کو اپنے آئین میں نہایت واضح حیثیت سے تسلیم کرے ورنہ امت مسلمہ کا شیرازہ ہمیشہ کھرا رہیگا اور فتنوں کا دروازہ کبھی بند نہ ہو سکے گا۔قرون اولیٰ کے بعد گزشتہ چودہ صدیوں میں مختلف زمانوں ے حدیث نبوی کا یہ ترجمہ جناب ابو الاعلیٰ صاحب مودودی کے رسالہ " دستوری سفارشات پر تنقید، صفحه ۱۵۶۱۴ سے لیا گیا ہے ؟