محضرنامہ — Page 17
14 ہو جائیں گے اور اگر ہم علماء میں سے کسی ایک کی طرف سے کی گئی تعریف اختیار کریں تو ہم اس عالم کے نظریہ کے مطابق تو مسلمان رہیں گے لیکن دوسری ہر تعریف کے مطابق کا فری رپورٹ تحقیقاتی عدالت فسادات ۶۱۹۵۳ مثل(۲) جسٹس منیر جس نتیجہ پر پہنچے ہیں اس سے یہ امرقطعی طور پر ثابت ہو جاتا ہے کہ مسلمان کی تعریف کے بارہ ہیں رپورٹ کی تدوین تک کبھی کوئی ایسا اجماع نہیں ہوا جسے سلف صالحین کی سند حاصل ہو لہذا آج اگر کوئی بظاہر متفق علیہ تعریف پیش کی جائے تو اسے اُمت کی اجتماعی تعریف ہرگز قرار نہیں دیا جائے گا اور اُسے سلف صالحین کی سند حاصل نہیں ہو گی۔پس جماعت احمدیہ کا موقف یہ ہے کہ مسلمان کی وہی دستوری اور آئینی تعریف اختیار کی جائے ہو حضرت خاتم الانبیاء محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان مبارک سے ارشاد فرمائی اور جو اسلامی مملکت کے لئے ایک شاندار چارٹر کی حیثیت رکھتی ہے جس کے لئے ہم تین احادیث نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم پیش کرتے ہیں :- ا۔حضرت جبریل علیہ السلام آدمی کے بھیس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور حضور سے پوچھا : " يَا مُحَمَّدُ اخْبِرُنِي عَنِ الْإِسْلَامِ قَالَ : الْإِسْلَامُ أَنْ تَشْهَدَ أَنْ لا إلة : إلا اللهُ وَانَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَتُقِيمَ الصَّلوةَ وَتُؤْتِي الزَّكوةَ وَتَصُومَ رَمَضَانَ وتحجر البَيْتَ إِنِ اسْتَطَعْتَ إِلَيْهِ سَبِيلًا - قَالَ صَدَقْتَ۔فَعَجِبْنَالَهُ يَسْئَلُهُ وَيُصَدِّقُهُ قَالَ : فَأَخْبِرْنِي عَنِ الْإِيْمَانِ قَالَ : أن تُؤْمِنَ بِاللهِ وَمَلَيكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُـ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَتُؤْمِنَ بِالْقَدْرِ خَيْرِهِ وَشَرِهِ قَالَ صَدَقْتَ (مسلم کتاب الایمان) - " جَاءَ رَجَل إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ قَائِرًا لرأْسِ نَسْمَعُ دَوِيَّ صَوْتِهِ وَلَا نَفْقَهُ مَا يَقُولُ حَتَّى دَنَا فَإِذَا هُوَ يَسْأَلُ عَنِ الْإِسْلَامِ فَقَالَ