محضرنامہ — Page 10
میں واحد ناجی فرقہ کا تعین کیا جائے جو اس معمور دنیا میں اجنبی اور اقلیت میں ہوگا تو ایسا کرنا عین منشاء نہوئی کے مطابق ہوگا۔حق وصداقت کے تقاضوں کو پورا کرنے کی درخواست مندرجہ بالا امور کی روشنی میں ہم مودبانہ مگر پرزور گزارش کرتے ہیں کہ پاکستان کی قومی اسمبلی ایسے معاملات پر غور کرنے اور فیصلہ کرنے سے گریز کرے جن کے متعلق فیصلہ کرنا اور غور کرنا بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔اقوام متحدہ کے منشور اور پاکستان کے دستور اساسی کے خلاف ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ قرآن کریم کی تعلیم اور ارشادات نبوئی کے بھی سراسر منافی ہے اور بہت سی خرابیوں اور فساد کو دعوت دینے کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔مزید برآں پاکستان کی قومی اسمبلی کی قائم کردہ یہ مثال دیگر ممالک میں بسنے والے اقلیتی مذاہب اور فرقوں کے لئے شدید مشکلات کا موجب بن سکتی ہے بہرحال اگر پاکستان کی قومی اسمبلی مندرجہ بالا گزارشات کو نظر انداز کرتے ہوئے خود کو اس امر کا مجاز تصور کرے کہ وہ اسلام کی طرف منسوب ہونے والے کسی بھی فرقہ کوکسی عقیدہ یا قرآن کریم کی کسی آیت کی مختلف تشریح کی بناء پر دائرہ ا سلام سے خارج قرار دینے کی مجاز ہے تو ہم یہ تجویز کریں گے کہ ایسی صورت میں حتی المقدور احتیاط برتی جائے اور عقل و انصاف کے تقاضوں کو حد امکان تک پورا کیا جائے اور ہر گز ایسے رنگ میں اس مسئلہ پر ہاتھ نہ ڈالا جائے کہ غیر جانبدار دنیا کی نظر میں یہ معامل تصحیک کا موجب ہو اور قومی وقار کوٹھیس پہنچانے کا باعث بنے۔سربراہ قوم جناب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو صاحب نے بھی قوم سے اپنی نشری تقریر تاریخ ۱۳ مئی میں یہ وعدہ فرمایا تھا کہ زیر نظر مسئلہ کو عمدگی اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق حل کیا جائے گا۔قوم کے سربراہ کے اس حتمی وعدہ کی بناء پر قومی سمبلی پر دوہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اس مسئلہ پر غور کرتے ہوئے انصاف اور معقولیت کے تقاضوں کو ہاتھ سے نہ جانے دے۔