محضرنامہ — Page 117
114 اور نوع انسان کے فخرزان شریر درندوں کی تلواروں سے ٹکڑے ٹکڑے کئے گئے اور یتیم بیچنے او عاجزا اور مسکین عورتیں کوچوں اور گلیوں میں ذبح کئے گئے۔اس پر بھی خدا تعالیٰ کی طرف سےقطعی طور پر یہ تاکید تھی کہ شتر کا ہرگز مقابلہ نہ کرو۔چنانچہ ان برگزیدہ راستبازوں نے ایسا ہی کیا ان کے خونوں سے گوچھے سرخ ہو گئے پر انہوں نے کم نہ مارا۔وہ قربانیوں کی طرح ذبیح کئے گئے پر انہوں نے آہ نہ کی۔خدا کے پاک اور مقدس رسول کو جس پر زمین اور آسمان سے بے شمار سلام میں بارہا پتھر مار مار کر خون سے آلودہ کیا گیا مگرہ اس صدق اور استقامت کے پہاڑ نے ان تمام آزاروں کی دیلی انشراح اور محبت سے برداشت کی اور ان صابرانہ اور عاجزانہ کروشوں سے مخالفوں کی شوخی دن بدن بڑھتی گئی اور انہوں نے اس مقدس جماعت کو اپنا ایک شکار سمجھ لیا تب اس خدا نے جو نہیں چاہتا کہ زمین پرظلم اور بے رحمی حد سے گزر جائے اپنے مظلوم بندوں کو یاد کیا اور اس کا غضب شریروں پر بھڑکا اور اس نے اپنے پاک کلام قرآن شریف کے ذریعہ سے اپنے مظلوم بندوں کو اطلاع دی کہ جو کچھ تمہارے ساتھ ہو رہا ہے یکیں سب کچھ دیکھ رہا ہوں لیکں تمہیں آج سے مقابلہ کی اجازت دیتا ہوں اور میں خدائے قادر ہوں ظالموں کو بے مزا نہیں چھوڑوں گا یہ حکم تھا جس کا دوسرے لفظوں میں جہاد نام رکھا گیا۔اور اس حکم کی اصل عبارت جو قرآن شریف میں اب تک موجود ہے یہ ہے۔اذنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرُ الَّذِينَ أَخْرِجُوا گورنمنٹ انگریزی اور جہاد صفحہ اتاهم ) اسلام نے صرف ان لوگوں کے مقابل پر تلوار اٹھانا حکم فرمایا ہے کہ جو اول آپ تلوار اُٹھائیں اور انہیں کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے جو اول آپ قتل کریں۔یہ حکم ہرگز نہیں دیا کہ تم ایک کا فر با دشاہ کے تحت میں ہو کر اور اس کے عدل اور انصاف سے فائدہ اُٹھا کر پھر اسی پر باغیانہ حملہ کر دو قرآن کے رو سے یہ بد معاشوں کا طریق ہے نہ نیکوں کا لیکن توریت مِنْ دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَق وو