محضرنامہ

by Other Authors

Page 118 of 195

محضرنامہ — Page 118

نے یہ فرق کسی جگہ کھول کر بیان نہیں فرمایا۔اس سے ظاہر ہے کہ قرآن شریف اپنے جلال او جمال احکام میں اسی خط مستقیم عدل اور انصاف اور رحم اور احسان پر چلتا ہے جس کی نظیر دنیا میں کسی کتاب میں موجود نہیں کیا انجام آنهم حصہ دوم ص ) اس زمانہ میں جس میں ہم ہیں ظاہری جنگ کی مطلق ضرورت اور حاجت نہیں بلکہ آخری دنوں میں جنگ باطنی کے نمونے دکھانے مطلوب تھے اور روحانی مقابلہ زیر نظر تھا کیونکہ اس قت باطنی ارتداد اور الحاد کی اشاعت کے لئے بڑے بڑے سامان اور اسلحہ بنائے گئے اس لئے ان کا مقابلہ بھی اسی قسم کے اسلحہ سے ضروری ہے۔کیونکہ آج کل امن و امان کا زمانہ ہے اور ہم کو ہر طرح کی آسائش اور امن حاصل ہے۔آزادی سے ہر آدمی اپنے مذہب کی اشاعت اور تبلیغ اور احکام کی بجا آوری کرسکتا ہے۔پھر اسلام جو امن کا سچا حامی ہے، بلکہحقیقہ امن اور سلم اور آشتی کا اشاعت کنندہ ہی اسلام ہے کیونکہ اس زمانہ امن و آزادی میں اس پہلے نمونہ کو دکھانا پسند کر سکتا تھا ؟ پس آجکل وہی دوسرا نمونہ یعنی روحانی مجاہدہ مطلوب ہے ؟ (ملفوظات جلد اول منه ) وو ابتدائے اسلام میں دفاعی لڑائیوں اور جسمانی جنگوں کی اس لئے بھی ضرورت پڑتی تھی کہ دعوتِ اسلام کرنے والے کا جواب دلائل و براہین سے نہیں بلکہ تلوار سے دیا جاتا تھا اس لئے لا چار جواب الجواب میں تلوار سے کام لینا پڑا لیکن اب تلوار سے جواب نہیں دیا جاتا بلکہ قلم اور دلائل سے اسلام پر نکتہ چینیاں کی جاتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اس زمانہ میں خدا تعالیٰ نے چاہا ہے که سیف (تلوار) کا کام قلم سے لیا جائے اور تحریر سے مقابلہ کر کے مخالفوں کو کبست کیا جائے اس لئے اب کسی کو شایاں نہیں کہ قلم کا جواب تلوار سے دینے کی کوشش کرے۔ع گر حفظ مراتب نکسنی زندیقی ، (i الملفوظات جلد اوّل صفحہ ۵۹۵۸)