محضرنامہ — Page 106
1۔4 نتیجہ نہ تھی بلکہ وہ ہوتیں براہ راست خدا کی ایک موسیعیت نھیں حضرت موسی کی پیروی کا اس میں ایک ذرہ بھی کچھ دخل نہ تھا یا اس کے ساتھ ہی حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے نہایت پر زور رنگ میں یہ اعلان بھی فرمایا ہے کہ مہر محمدی کے یہ اثرات صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی ہی سے حاصل ہو سکتے ہیں۔چنانچہ اپنی کتاب حقیقۃ الوحی میں فرماتے ہیں :- پس میں ہمیشہ تعجب کی نگہ سے دیکھتا ہوں کہ یہ عربی نبی جس کا نام محمد ہے (ہزار ہزار درود اور سلام اس پر ) یہ کیس عالی مرتبہ کا نبی ہے۔اس کے عالی مقام کا انتہاء معلوم نہیں ہو سکتا اور اس کی تاثیر قدسی کا اندازہ کرنا انسان کا کام نہیں۔افسوس کہ جیسا حق شناخت کا ہے اس کے مرتبہ کو شناخت نہیں کیا گیا۔وہ توحید جو دنیا سے گم ہو چکی تھی وہی ایک پہلوان ہے جو دوبارہ اس کو دنیا میں لایا۔اس نے خدا سے انتہائی درجہ پر محبت کی اور انتہائی درجہ پر بنی نوع انسان کی ہمدردی میں اس کی جان گداز ہوئی۔اس لئے خدا نے جو اس کے دل کے راز کا واقف تھا اس کو تمام انبیاء اور تمام اولین و آخرین پر فضیلت بخشی اور اس کی مرادیں اس کی زندگی میں اس کو دیں۔وہی ہے جو سر چشمہ ہر ایک فیض کا ہے۔اور وہ شخص جو بغیر اقرار افاضہ اس کے کے کسی فضیلت کا دعوی کرتا ہے وہ انسان نہیں ہے بلکہ ذریت شیطان ہے کیونکہ ہر ایک فضیلت کی گنجی اس کو دی گئی ہے۔(صفحہ ۱۱۵، ۱۱۶) حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کے اس پہلو پر جو کچھ لکھا ہے اسکی تائید و تصدیق عہد حاضر کے علماء بھی کر رہے ہیں۔چنانچہ دیوبندی مسلک کے مشہور عالم مولانا محمود الحسن صاب اور مولانا شبیر احمد عثمانی کے ترجمہ قرآن میں لکھا ہے :- جس طرح روشنی کے تمام مراتب عالیم اسباب میں آفتاب پر ختم ہو جاتے ہیں اسی طرح نبوت و رسالت کے تمام مراتب و کمالات کا سلسلہ بھی روح محمدی صلح پر ختم ہوتا ہے۔بدین لحاظ