محضرنامہ

by Other Authors

Page 85 of 195

محضرنامہ — Page 85

۸۵ " اگر یہ کہا جائے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں پھر آپ کے بعد اور نبی کس طرح آسکتا ہے ؟ اس کا جواب یہی ہے کہ بے شک اس طرح سے تو کوئی نبی نیا ہویا پرانا نہیں آسکتا جس طرح آپ لوگ حضرت عیسی علیہ السلام کو آخری زمانہ میں اُتارتے ہیں اور پھر اس حالت میں ان کو نبی بھی مانتے ہیں بلکہ چالیس برس تک سلسلہ وحی نبوت کا جاری رہنا اور زمانہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی بڑھ جانا آپ لوگوں کا عقیدہ ہے۔بے شک ایسا عقیدہ تو معصیت ہے اور آیت ولکن رَسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ اور حدیث لَا نَبِيَّ بعد منی اس عقیدہ کے کذب صریح ہونے پر کامل شہادت ہے لیکن ہم اس قسم کے عقائد کے سخت مخالف ہیں اور ہم اس آیت پر سچا اور کامل ایمان رکھتے ہیں جو فرمایا کہ وَلكِن رُّسُولَ اللهِ وَ خَاتَمَ النَّبِينَ اور اِس آیت میں پیشگوئی ہے جس سے ہمارے مخالفوں کو خبر نہیں اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اِس آیت میں فرماتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد پیش گوئیوں کے تمام دروازے بند کر دیئے گئے ہیں اور ممکن نہیں کہ اب کوئی ہند و یا یہودی یا عیسائی یا کوئی رسمی مسلمان نہی کے لفظ کو اپنی نسبت ثابت کر سکے نبوت کی تمام کھڑکیاں بند کی گئیں مگر ایک کھڑ کی سیرت صدیقی کی گھلی ہے یعنی فنافی الرسول کی پس جو شخص اس کھڑکی کی راہ سے خدا کے پاس آتا ہے اس پر ظلی طور پر وہی نبوت کی چادر پہنائی جاتی ہے جو نبوت محمدی کی چادر ہے اسلئے اس کا نہی ہونا غیرت کی جگہ نہیں کیونکہ وہ اپنی ذات سے نہیں بلکہ اپنے نبی کے چشمہ سے لیتا ہے اور نہ اپنے لئے بلکہ اسی کے جلال کے لئے۔اس لئے اس کا نام آسمان پر محمد اور احمد ہے۔اس کے پیعنی ہیں کہ محمد کی نبوت آخر محمد ہی کو لی گو بروزی طور پر مگر نہ کسی اور کو۔پس یہ آیت کہ مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلكِنْ رَسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّنَ۔اِس کے معنی یہ ہیں کہ لَيْسَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِنْ رِجَالِ الدُّنْيَا وَلكِن هُوَابُ لِرِجَالِ الْآخِرَةِ لِأَنَّهُ خاتم النَّبِيِّنَ وَلَا سَبِيلَ إِلى فُيُونِ اللَّهِ مِنْ غَيْرِ توسطه - عرض میری نبوت اور رسالت