محضرنامہ

by Other Authors

Page 84 of 195

محضرنامہ — Page 84

سلام ا نبی اللہ بننا چاہتا ہے تو وہ ملحد بے دین ہے۔اور غالباً ایسا شخص اپنا کوئی نیا کلم بنائے گا اور عبادات میں کوئی نئی طرز پیدا کرے گا اور احکام میں کچھ تغیر و تبدل کر دے گا پس بلاشبہ و سیلمہ کذاب کا بھائی ہے اور اس کے کافر ہونے میں کچھ شک نہیں۔ایسے عصبیت کی نسبت کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ وہ قرآن شریف کو مانتا ہے " انجام آنختم صفحہ ۲۷، ۲۸ حاشیہ) ان معنوں سے کہ میں نے اپنے رسول مقتداء سے باطنی فیوض حاصل کر کے اور اپنے لئے اس کا نام پاکر اس کے واسطہ سے خدا کی طرف سے علم غیب پایا ہے ، رسول اور نہی ہوں مگر بغیر کسی جدید شریعت کے۔اِس طور کا نبی کہلانے سے میں نے کبھی انکار نہیں کیا بلکہ انہی معنوں سے خدا نے مجھے نبی اور رسول کر کے پکارا ہے سو اب بھی میں ان معنوں سے نبی اور رسول ہونے سے انکار نہیں کرتا اور میرا یہ قول «من بیستم رسول دنیا ورده ام کتاب " اس کے معنے صرف اس قدر ہیں کہ میں صاحب شریعیت نہیں ہوں۔ہاں یہ بات بھی ضرور یا د رکھنی چاہیئے اور ہر گز فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ کہیں با وجود نبی اور رسول کے لفظ سے پکارے جانے کے خدا کی طرف سے اطلاع دیا گیا ہوں کہ یہ تمام فیوض بلا واسطہ میرے پر نہیں ہیں بلکہ آسمان پر ایک پاک وجود ہے جس کا رُوحانی افاضہ میرے شامل حال ہے یعنی محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم اسی واسطے کو ملحوظ رکھ کر اور اس میں ہو کر اور اس کے نام محمدؐ اور احمد سے مسمی ہو کر میں رسول بھی ہوں اور نبی بھی ہوں یعنی بھیجا گیا بھی اور خدا سے غیب کی خبریں پانے والا بھی۔اور اس طور سے خاتم النبیین کی مہر محفوظ رہی کیونکہ میں نے انعکاسی اور نطقی طور پر محبت کے آئینہ کے ذریعہ سے وہی نام پایا۔اگر کوئی شخص اس وحی الہی پر ناراض ہو کہ کیوں خدا تعالیٰ نے میرا نام نبی اور رسول رکھا ہے تو یہ اس کی حماقت ہے کیونکہ میرے نبی اور رسول ہونے سے خدا کی مہر نہیں ٹوٹتی (ایک غلطی کا ازالہ صفحہ ۷۶ ) "