محضرنامہ

by Other Authors

Page 83 of 195

محضرنامہ — Page 83

جس کے معنی یہ ہیں کہ آپؐ کے بعد براہ راست فیوض نبوت منقطع ہو گئے اب کمال نبوت صرف اسی شخص کو ملے گا جو اپنے اعمال پر اتباع نبوی کی مہر رکھتا ہوگا۔ریویو بر مباحثہ بٹالوی وچکڑالوی صفحه ۷۷۶) "کیا ایسا بد بخت مفتری جو خود رسالت اور نبوت کا دعوی کرتا ہے قرآن شریف پر ایمان رکھ سکتا ہے اور کیا ایسا وہ شخص جو قرآن شریف پر ایمان رکھتا ہے اور آیت ولکن رسول اللهِ وَخَاتم النبین کو خدا کا کلام یقین رکھتا ہے وہ کہہ سکتا ہے کہ میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد رسول اور نبی ہوں۔صاحب انصاف طلب کو یاد رکھنا چاہیے کہ اس عاجز نے کبھی اور کسی وقت حقیقی طور پر نبوت یا رسالت کا دعوی نہیں کیا اور غیرحقیقی طور پر کسی لفظ کو استعمال کرنا اور گفت کے عام معنوں کے لحاظ سے اس کو بول چال میں لانا مستلزم گفر نہیں مگر میں اس کو بھی پسند نہیں کرتا کہ اس میں عام مسلمانوں کو دھوکا لگ جانے کا احتمال ہے لیکرنے وہ مکالماتھے اور مخاطباتے جو اللہ جل شانہ کی طرف سے مجھ کو ملے ہیں جرے میں یہ لفظ نبو تھے اور رسالت کا بکثرتے آیا ہے ارض کو میرے بوجہ مامور ہونے کے مخفی نہیں رکھ سکتا لیکن بار بار کہتا ہوں کہ اُن الہامات میں جو لفظ مُرسل یا رسول یا نبی میری نسبت آیا ہے وہ اپنے حقیقی معنوں پر مشتمل نہیں ہے اور اصل حقیقت جس کی میں علیٰ رؤوس الانشا د گواہی دیتا ہوں یہی ہے جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں او آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا نہ کوئی پرانا اور نہ کوئی نیا - وَمَنْ قَالَ بَعْدَ رَسُولِنَا وَ سيدنا الى نَبِيُّ اَوْ رَسُولُ عَلَى وَجْهِ الْحَقِيقَةِ وَالِاخْتِرَاءِ وَتَرَكَ الْقُرْآنَ وَاحْكَامُ الشَّرِيعَةِ الْغَرَاءِ فَهُوَ كَافِرُ کذاب۔غرض ہمارا مذہب یہی ہے کہ جو شخص حقیقی طور پر نبوت کا دعوی کرے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دامنے فریض سے اپنے تئیں الگ کر کے اور اس پاک سر چشمہ سے جُدا ہو کر آپ بھی براہ راستے