محضرنامہ

by Other Authors

Page 75 of 195

محضرنامہ — Page 75

نُورُ عَلى نُور : " وہ اعلیٰ درجہ کا نور جو انسان کو دیا گیا یعنی انسان کامل کو وہ ملائک میں نہیں تھا ، نجوم میں نہیں تھا ، تمر میں نہیں تھا ، آفتاب میں بھی نہیں تھا، وہ زمین کے سمندروں اور دریاؤں میں بھی نہیں تھا، وہ لعل اور یا قوت اور زمرد اور الماس اور موتی میں بھی نہیں تھا۔غرض وہ ر کسی چیز ارضی و سماوی میں نہیں تھا صرف انسان میں تھا یعنی انسان کامل میں جس کا اتم اور الملک اور اعلیٰ اور ارفع فرد ہمارے سید و مولى سید الانبیاء سيد الاحياء محمد صطفیٰ (آئینہ کمالات اسلام صفحه ۱۶۰، ۱۷۱) صلی اللہ علیہ وسلم ہیں“ سید شان آنکه نامش مصطفی است رہبر ہر زمره صدق وصفا است می درخشد روئے حق در روئے اُو بُوئے حق آید زبام و گوئے اُو ہر کمال رہبری بر کے تمام پاک رُوئے و پاک رویاں را امام " (ضیاء الحق منگ) " سورة آل عمران جز و تیسری میں مفصل یہ بیان ہے کہ تمام نبیوں سے عہد و اقرار لیا گیا کہ تم پر واجب و لازم ہے کہ عظمت و جلالیت شان ختم الرسل پر جو محمدمصطفے صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ایمان لاؤ اور ان کی اس عظمت اور حلالت کی اشاعت کرنے میں بدل و جان مدد کرو اسی وجہ سے حضرت آدم صفی اللہ سے لے کرتا حضرت مسیح کلمتہ اللہ جس قدر نبی و رسول گزرے ہیں وہ سب کے سب عظمت و جلالیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اقرار کرتے آئے ہیں یا سرمه چشم آریہ حاشیہ منت ) YA