محضرنامہ

by Other Authors

Page 66 of 195

محضرنامہ — Page 66

۶۶ اُن کے دلوں میں جوش مارتا ہے اور ایک خارق عادت اُنس اور شوق اُن کے قلوب صافیہ پر مستولی ہو جاتا ہے کہ جو غیر سے بجلی منقطع اور رستہ کر دیتا ہے اور آتش عشق الہی ایسی افروختہ ہوتی ہے کہ جو ہم محبت لوگوں کو اوقات خاصہ میں بدیہی طور پر مشہود اور محسوس ہوتی ہے بلکہ اگر محبان صادق اس جوش محبت کو کسی حیلہ اور تدبیر سے پوشیدہ رکھنا بھی چاہیں تو یہ ان کے لئے غیر ممکن ہو جاتا ہے۔جیسے عشاق مجازی کے لئے بھی یہ بات غیر ممکن ہے کہ وہ اپنے محبوب کی محبت کو جس کے دیکھنے کے لئے دن رات کرتے ہیں اپنے رفیقوں اور ہم محبتوں سے چھپائے رکھیں بلکہ و عشق جو ان کے کلام اور اُن کی صورت اور اُن کی آنکھ اور اُن کی وضع اور ان کی فطرت میں گھس گیا ہے اور اُن کے بال بال سے مترشح ہو رہا ہے وہ اُن کے چھپانے سے ہر گز چھپ ہی نہیں سکتا اور ہزار چھپائیں کوئی نہ کوئی نشان اس کا نمودار ہو جاتا ہے اور سب سے بزرگ تر اُن کے صدق قدم کا نشان یہ ہے کہ وہ اپنے محبوب حقیقی کو ہر یک چیز پر اختیار کر لیتے ہیں اور اگر آلام اُس کی طرف سے پہنچیں تو محبت ذاتی کے غلبہ سے برنگِ انعام اُن کو مشاہدہ کرتے ہیں اور عذاب کو شربت کذب کی طرح سمجھتے ہیں کیسی تلوار کی تیز دھار اُن میں اور اُن کے محبوب میں جدائی نہیں ڈال سکتی اور کوئی بلیتہ عظمیٰ اُن کو اپنے اس پیارے کی یادداشت سے روک نہیں سکتی۔اسی کو اپنی جان سمجھتے ہیں اور اسی کی محبت میں لذات پاتے اور اُسی کی ہستی کو ہستی خیال کرتے ہیں اور اسی کے ذکر کو اپنی زندگی کا ما حصل قرار دیتے ہیں۔اگر چاہتے ہیں تو اُسی کو اگر آرام پاتے ہیں تو اسی سے۔تمام عالم میں اسی کو رکھتے ہیں اور اُسی کے ہو رہتے ہیں۔اُسی کے لئے جیتے ہیں اُسی کے لئے کرتے ہیں۔عالم میں رہ کر پھر بے عالم ہیں اور با خود ہو کر پھر بے خود ہیں۔نہ عزت سے کام رکھتے ہیں نہ نام سے نہ اپنی جان سے نہ اپنے آرام سے بلکہ سب کچھ ایک کے لئے کھو بیٹھتے ہیں اور ایک کے پانے کے لئے سب کچھ دے ڈالتے ہیں۔لا یدرک آتش سے ملتے جاتے