محضرنامہ

by Other Authors

Page 59 of 195

محضرنامہ — Page 59

وه ہوش و حواس کو کھو دیتے ہیں وہ صرف اپنے ہی خود تراشیدہ پر میشر کے تصور سے دور ہو سکتے ہیں یا صرف اپنے ہی تجویز کردہ خیالات سے دب سکتے ہیں اور یا کسی ایسے کفارہ سے رُک سکتے ہیں جس کا دُکھ اپنے نفس کو چھوا بھی نہیں۔ہرگز نہیں۔یہ بات معمولی نہیں بلکہ سب باتوں سے بڑھ کر عقلمند کے نزدیک غور کرنے کے لائق یہی بات ہے کہ وہ تباہی جو اس بے باکی او بے تعلقی کی وجہ سے پیش آنے والی ہے جس کی اصل میٹر گناہ اور معصیت ہے اس سے کیونکر محفوظ رہے۔یہ تو ظاہر ہے کہ انسان یقینی لذات کو محض خلتی خیالات سے چھوڑ نہیں سکتا۔ہاں ایک یقین دوسرے یقینی امر سے دست بر دار کر اسکتا ہے۔مثلاً ایک بن کے متعلق ایک یقین ہے کہ اس جگہ سے کئی ہرن ہم بآسانی پکڑ سکتے ہیں اور ہم اس یقین کی تحریک پر قدم اُٹھانے کے لئے مستعد ہیں مگر جب یہ دوسرا یقین ہو جائے گا کہ وہاں پنچا پس شیر بر بھی موجو د ہیں اور ہزار ہا خونخوار اثر یہ بھی ہیں جو منہ کھولے بیٹھے ہیں تب ہم اس ارادہ سے دست کش ہو جائینگے۔اسی طرح بغیر اس درجہ یقین کے گناہ بھی دور نہیں ہوسکتا۔لوہا لو ہے سے ہی ٹوٹتا ہے۔خدا کی عظمت اور ہیبت کا وہ یقین چاہیے جو غفلت کے پردوں کو پاش پاش کر دے اور بدن پر ایک لرزہ ڈال دے اور موت کو قریب کر کے دکھلا دے اور ایسا خوف دل پر غالب کرے جس سے تمام تار و پود نفس امارہ کے ٹوٹ جائیں اور انسان ایک غیبی ہاتھ سے خدا کی طرف کھینچا جائے اور اُس کا دل اس یقین سے بھر جائے کہ در حقیقت خدا موجود ہے جو بے باک مجرم کو بے سزا نہیں چھوڑتا۔پس ایک حقیقی پاکیزگی کا طالب ایسی کتاب کو کیا کرے جس کے ذریعہ سے یہ ضرورت رفع نہ ہوسکے۔اس لئے میں ہر ایک پر یہ بات ظاہر کرتا ہوں کہ وہ کتاب جو ان ضرورتوں کو پورا کرتی ہے وہ قرآن شریف ہے۔اس کے ذریعہ سے خدا کی طرف انسان کو ایک کشش پیدا ہو جاتی ہے اور دنیا کی محبت سرد ہو جاتی ہے اور وہ خدا جو نہایت نہاں در نہاں ہے اُس کی پیروی سے