محضرنامہ

by Other Authors

Page 51 of 195

محضرنامہ — Page 51

اه پرستاروں کے لئے تسلی ہے۔کیونکہ اگر خدا عاجز ہو اور قادر نہ ہو تو ایسے خدا سے کیا اُمید اور پھر فرمایا رَبّ الْعَلَمِينَ - الرَّحْمنِ الرَّحِيم - مُلِكَ يَوْمِ الدِّينِ - أُجِيبُ دَعْوَةَ الداع إذا دَعَانِ یعنی وہی خدا ہے جو تمام عالموں کا پرورش کرنے والا۔رحمن رحیم اور جزاء کے دن کا آپ مالک ہے۔اس اختیار کو کسی کے ہاتھ میں نہیں دیا۔ہر ایک پکارنے والے کی پکار کو سننے والا اور جواب دینے والا یعنی دعاؤں کا قبول کرنے والا۔اور پھر فرمایا الحمى القوم یعنی ہمیشہ رہنے والا اور تمام جانوں کی جان اور سب کے وجود کا سہارا۔یہ اس لئے کہا وہ ازلی ابدی نہ ہو تو اس کی زندگی کے بارے میں بھی دھڑکا رہے گا شاید ہم سے پہلے فوت نہ ہو جائے اور پھر فرمایا کہ وہ خدا اکیلا خدا ہے نہ وہ کسی کا بیٹا اور نہ کوئی اس کا بیٹا۔اورنہ کوئی اُس کے برابر اور نہ کوئی اس کا ہم جنس یا اسلامی اصول کی فلاسفی صفحہ ۱۵۸ تا ۱۶۲) کس قدر ظاہر ہے نور اس مبداء الانوار کا بن رہا ہے سارا عالم آئینہ ابصار کا چاند کو کل دیکھ کر میں سخت سیکل ہو گیا کیونکہ کچھ کچھ تھا نشاں اس میں جمال یار کا اس بہار حسن کا دل میں ہمارے جوش ہے مت کرو کچھ ذکر ہم سے ترک یا تاتار کا ہے عجب جلوہ تری قدرت کا پیاسے ہر طرف جس طرف دیکھیں وہی راہ ہے تیرے پیار کا چشمه خورشید میں موجیں تری مشہور ہیں ہر ستارے میں تماشہ ہے تیری چمکار کا تو نے خود رُوحوں پر اپنے ہاتھ سے چھڑ کا ملک اس سے ہے شور محبت عاشقان زار کا کیا عجب تو نے ہر اک ذرے میں رکھے ہیں خواص کون پڑھ سکتا ہے سارا دختران اسرار کا تیری قدرت کا کوئی بھی انتہا پاتا نہیں کسی سے نگل سکتا ہے پینے اس عقدہ دشوار کا خوبروؤں میں ملاحت ہے ترے اس حسن کی ہر گل و گلشن میں ہے رنگ اس ترسے گلزار کا چشم مست ہر حسیں ہر دم دکھاتی ہے تجھے ہاتھ ہے تیری طرف ہر گیسوئے خمدار کا