محضرنامہ — Page 52
۵۲ آنکھ کے اندھوں کو حائل ہو گئے سو سو حجاب ورنہ تھا قبلہ تراریخ کا فر و دیندار کا ہیں تری پیاری نگا ہیں دلبرا اک تیغ تیز جن سے کٹ جاتا ہے سب جھگڑ انیم اغیار کا تیرے ملنے کے لئے ہم ہل گئے ہیں خاک میں تامگر درماں ہو کچھ اس ہجر کے آزار کا ایک دم بھی کل نہیں پڑتی مجھے تیرے سوا جاں گھٹی جاتی ہے جیسے دل گھٹے بیمار کا شور کیسا ہے تیرے کوچہ میں سے جلدی خبر خوں نہ ہو جائے کسی دیوانہ مجنوں وار کا د سرور سر چشم آرید )