محضرنامہ

by Other Authors

Page 37 of 195

محضرنامہ — Page 37

ذات باری کا عرفان از افادات حضرت بانی سلسلہ احمدیہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ اپنی کتاب "شهر مر چشم آریہ" میں فرماتے ہیں :- کئی مقام پر قرآن شریف میں اشارات و تصریحات سے بیان ہوا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مظہر اتم الوہیت ہیں ان کا کلام خدا کا کلام اور ان کا ظہور خدا کا ظہور ا ور ان کا آنا خدا کا آنا ہے" "پس چونکہ قدیم سے اور جب سے کہ دنیا پیدا ہوئی ہے خدا کا شناخت کرنا نہی کے شناخت کرنے سے وابستہ ہے اس لئے یہ خود غیر ممکن اور محال ہے کہ بجز ذریعہ نہی کے توحید مل سکے۔نبی خدا کی صورت دیکھنے کا آئینہ ہوتا ہے اسی آئینہ کے ذریعہ سے خدا کا چہرہ نظر آتا ہے۔جب خدا تعالیٰ اپنے تئیں دنیا پر ظاہر کرنا چاہتا ہے تو نبی کو جو اس کی قدرتوں کا مظہر ہے دنیا میں بھیجتا ہے اور اپنی وحی اس پر نازل کرتا ہے اور اپنی ربوبیت کی طاقتیں اس کے ذریعہ سے دکھلاتا ہے تب دنیا کو پتہ لگتا ہے کہ خدا موجود ہے۔پس جن لوگوں کا وجود ضروری طور پر خدا کے قدیم قانون از لی کے رو سے خداشناسی کے لئے ذریعہ مقرر ہو چکا ہے اُن پر ایمان لانا توحید کی ایک تجزو ہے اور بجز اس ایمان کے توحید کامل نہیں ہوسکتی کیونکہ یمکن نہیں که آسمانی نشانوں اور قدرت نما عجائبات کے جو نبی دکھلاتے ہیں اور معرفت تک پہنچاتے ہیں وہ خالص توحید ہو چشہ یقین کامل سے پیدا ہوتی ہے میسر آسکے۔وہی ایک قوم ہے جو خدانما ہے جن کے ذریعہ سے وہ خدا جس کا وجود دقیق در دقیق اور مخفی در مخفی اور غیب الغیب ہے ظاہر