محضرنامہ — Page 171
141 فرقہ وارانہ فسادات کو ختم کرانا اور اکثریت کا تحفظ و اظهار نفس الامری کیونکہ تاریخ شاہد ہے کہ ہنری ہشتم کے عہد حکومت میں بعض چیتے پروٹسٹنٹ پادریوں نے خود کو رومن ظاہر کرتے ہوئے اور رومن مذہب کی ترقی کے لئے حکومت الہیہ اور نظام عیسوی کے نغمے بلند فرما کر ہی پارلیمنٹ کے ذریعہ رومن کیتھولک مذہب کو انگلینڈ کی سرزمین سے ختم کرایا تھا“ اگر اہلسنت والجماعت کے سر پر دیوبندی فرقہ کو مسلط کیا گیا تو اس کے معنی ہنری ہشتم اور رومن کیتھولک کی تجدید کے ہوں گے۔الداعيان الى الخير ( آگے حضرت مولانا مخدوم سید ناصر جلالی سرپرست جمعیت العلماء پاکستان کے علاوہ بہت سے بریلوی علماء کے دستخط ثبت ہیں ) ١٩٥٣ (بحوالہ ماہنامہ طلوع اسلام مئی ۱۹۵۳ ه صفحه ۶۵۷۶۴) شیعی رسالہ " المنتظر“ لاہور نے شاء میں لکھا کہ :- 1960 جمعیت کا منشور مرتب کرنے والوں نے بڑی ہوشیاری کے ساتھ اپنے سوا دوسرے اسلامی فرقوں کو غیر مسلم ثابت کرنے کے لئے بھی دفعہ شامل کر دی ہے ختم نبوت کا تو بہانہ ہے ورنہ لفظ " وغیرہ میں اتنی گنجائش موجود ہے کہ مفتی محمود اور غلام غوث ہزاروی اسلام کے کسی بھی فرقہ کو غیر اسلامی بنا کر رکھ دیں گے " المنتظر" لاہور فروری کلمه من) المنتظر نے جس خطرہ کا اظہار کیا تھا وہ دوسال بعد تحقیقت کی شکل اختیار کر چکا ہے جس کا دستاویزی ثبوت " خلافت راشدہ کا نفرنس“ ملتان کی مندرجہ ذیل قرار داد ہے :- خلافتِ راشدہ کا نفرنس ملتان کا یہ عظیم الشان اجلاس حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتا ہے کہ جب شیعوں نے مسلمانوں سے علیحدہ اوقات اور علیحدہ نصاب تعلیم کا مطالبہ کر کے بیلت سے علیحدگی کا ثبوت دیا ہے اور اس طرح عملاً یہ دعوامی کیا ہے کہ وہ عامتہ المسلمین سے جدا ایک مستقل اقلیت ہیں اور حکومت نے بھی ان کی اس علیحدگی کو تسلیم کر لیا ہے تو شیعوں کو ہر شعبہ میں