محضرنامہ

by Other Authors

Page 159 of 195

محضرنامہ — Page 159

۱۵۹ میں نے محسوس کیا کہ جو کام اس نیت اور ان طریقوں سے کیا جائے اس میں کبھی تیر نہیں ہو سکتی اور اپنی اغراض کے لئے خدا اور رسول کے نام سے کھیلنے والے جو مسلمانوں کے سروں کو شطر نج کے مہروں کی طرح استعمال کریں اللہ کی تائید سے بھی سرفراز نہیں ہوسکتے یا روز نامرتسنیم لاہور ۲ جولائی ۶۱۹۵۵ ص کالم ۵) یہ محض نمونہ کے طور پر بڑے اختصار کے ساتھ بہت سے طویل فتاوی میں سے چند اقتباسات پیش ہیں۔یہ فتاوی آپ نے ملاحظہ فرمائے۔اللہ تعالیٰ اُمت مسلمہ پر رحم فرمائے یقینا آپ دل تھام کر اور سر کڑ کر بیٹھ گئے ہوں گے لیکن ہمیں اِس وقت صرف اتنا پوچھنے کی اجازت دیجئے کہ کیا ان دل دہلا دینے والے فتاوی کی موجودگی میں احمدیوں پر کوئی دُور کی بھی گنجائش اِس اعتراض کی باقی رہ جاتی ہے کہ وہ مذکورہ بالا فرقوں کے ائمہ کے پیچھے نماز کیوں نہیں پڑھتے ؟ للہ کچھ انصاف سے کام لیجئے کچھ تو خوب خدا کریں۔آقائے دوجہاں عدل مجسم حضرت محمدمصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی ہی کی شرم رکھ لیجیئے اور بتائیے کہ مذکورہ بالا اکثر فرقوں کے علماء جماعت احمدیہ سے جو یہ سراسر ظلم اور نا انصافی کی ہولی کھیل رہے ہیں یہ کہاں تک ایک مسلمان کو زیبا ہے ، ایک غلام رحمت للعالمین کے شایان شان ہے ؟ ان کے پیچھے نماز پڑھو تو کافر نہ پڑھو تو کافر کوئی جائے تو آخر کہاں جائے ؟ مسلمان رہنے کا کیا صرف یہی ایک راستہ باقی رہ گیا ہے کہ اکثریت کی طرح نماز کو بھی ترک ہی کر دیا جائے۔آج کل کے علماء کا فیصلہ تو سہی معلوم ہوتا ہے کہ اگر مسلمانی باقی رکھنی ہے تو نماز چھوڑ دو ورنہ جس کے پیچھے نماز پڑھوگے بچے کافر اور جہنمی قرار دیئے جاؤ گے۔ایک بچنے کی راہ یہ رہ گئی تھی کہ کسی کے پیچھے بھی نماز نہ پڑھی جائے تو احمدیوں پر یہ راہ بھی بند کر دی گئی اور یہ فتوی بھی دے دیا گیا کہ جو کسی دوسرے فرقہ کے پیچھے نمازنہ پڑھے وہ بھی کافر اور غیرمسلم اقلیت پڑھے تب کا فرنہ پڑھے تب کا فر آخر کوئی جائے تو کہاں جائے ؟ یا بقول آتش ہے کوئی مر نہ جائے تو کیا کرے؟ حکما ءنے اس نوع کے انصاف پر طنز کرتے ہوئے ایک قصہ لکھا ہے کہ ایک بھیڑ کا بچہ کسی ندی پر پانی