محضرنامہ — Page 160
۱۶۰ نا رہا تھا۔بڑیا اُوپر کی سمت سے آیا اور ڈپٹ کر پو چھا کہ تمہیں پتہ نہیں کہ کہیں بھی پانی پی رہا تھا پھر تم نے اسے گدلا کرنے کی جرات کیسے کی ؟ بچے نے عرض کیا حضور میں تو نچلے حصے سے پانی پی رہا تھا آپ کا پانی کیسے گدلا ہو سکتا ہے جو اوپر کی طرف سے پی رہے تھے ؟ بھیڑیے نے غضبناک ہو کر کہا اچھا تو آگے سے بکواس کرتے ہو ؟ مجھے جھوٹا کہتے ہو لعنتی ہیں میں تمہاری سزا یہی ہے کہ تمہیں پھاڑ کھایا جائے۔کچھ ان علماء کوخدا کا خوف دلائیے۔بھیڑیے اور بھیڑ کے بچے کا یہ قصہ آپ پڑھتے ہیں تو کبھی اس رضی بھیڑ کے بچے پر ترس کھانے لگتے ہیں اور کبھی بھیڑیے پر غصہ آتا ہے لیکن آج آپ کی آنکھوں کے سامنے بھیڑ کے بچوں سے نہیں آبنائے آدم سے یہ سلوک کیا جا رہا ہے کیسی فرضی قصہ میں نہیں روز مرہ کی جیتی جاگتی دنیا میں ایک دردناک حقیقت کے طور پر یہ ظلم دہرایا جا رہا ہے اور احتجاج کا ایک حرف بھی آپ کی زبان تک نہیں آتا۔یلہ اتنا تو کیجئے کہ ان علماء سے کہئے کہ اگر یہی ظلم کی راہ اختیار کرنی ہے اور اسی جنگل کے قانون کو اپنانا ہے اور ظاہری طاقت کے گھمنڈ نے خدا تعالیٰ کے قانون عدل کو ہر قیمت پر گھلنے کا فیصلہ کر لیا ہے تو کم از کم اتنا پاس تو کریں کہ اسلام کے مقدس نام کو اس میں ملوث کرنے سے باز رہیں۔اتنا کرم تو فرمائیں کہ ناموس رسول عربی صلی اللہ علیہ وسلم فداہ ابی واقعی کو اس قضیہ میں آئودہ نہ کریں۔طاقت اور کثرت کے گھمنڈ کو ان کمزور اور بودے دلائل کے سہاروں کی کیا ضرورت ہے ؟ 8 جب میکدہ چھٹا ہے تو پھر کیا جگہ کی قید ؟ جب اسلامی اقدار عدل و انصاف کا خوارض کر کے بھی ھے مقصد اپنے عزائم کو پورا کرنا ہے تو چھوڑیے الف دلائل اور اپنے تنکوں کے سہاروے کو۔دندناتے ہوئے میدارنے کربلا میں کو دیئے اور کر گزریے جو کر گزرنا ہے۔اور پھر اپنی آنکھوں سے یہ بھی ھے دیکھ لیجیے کہ اسلام کا خدا اور اسلام کا ر سوٹ کیس کے ساتھ ہیں ؟ اور مصائب اور شدائد کا میدان کرنے کو حضرت محمد صطفے صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ستیا مخلص اور جا نثار عاشق اور فدائے غلام ثابت کرتا ہے ؟؟