محضرنامہ — Page 119
119 اس وقت جو ضرورت ہے وہ یقینا سمجھے لوسیف کی نہیں قلم کی ہے۔ہمارے مخالفین نے اسلام پر جو شبہات وارد کئے ہیں اور مختلف سائنسوں اور مکائد کی رُو سے اللہ تعالے کے پیچھے مذہب پر حملہ کرنا چاہا ہے اس نے مجھے متوجہ کیا ہے کہ میں قلمی اسلحہ پہن کر اس سائنس اور علمی ترقی کے میدان کارزار میں اُتروں اور اسلام کی روحانی شجاعت اور باطنی قوت کا کرشمہ دکھلاؤں۔یکیں کب اس میدان کے قابل ہو سکتا تھا۔یہ تو صرف اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اور اس کی بے حد عنایت ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ میرے جیسے عاجز انسان کے ہاتھ سے اس کے دین کی عزت ظاہر ہو۔میں نے ایک وقت ان اعتراضات اور حملات کو شمار کیا جو اسلام پر ہمارے مخالفین نے کئے ہیں تو ان کی تعداد میرے خیال اور اندازہ میں تین ہزار ہوئی اور یکں سمجھتا ہوں کہ اب تو تعداد اور بڑھ گئی ہوگی۔کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ اسلام کی بناء ایسی کمزور باتوں پر ہے کہ اس پر تین ہزارہ اعتراض وارد ہو سکتا ہے نہیں ایسا ہرگز نہیں ہے یہ اعتراضات تو کوتاہ اندیشوں اور نا دانوں کی نظر میں اعتراض ہیں مگر میں تم سے پیچ پیچ کہتا ہوں کہ میں نے یہاں ان اعتراضات کو شمار کیا وہاں یہ بھی غور کیا ہے کہ ان اعتراضات کی تہ میں در اصل بہت ہی نا در صداقتیں موجود ہیں جو عدم بصیرت کی وجہ سے معترضین کو دکھائی نہیں دیں اور در حقیقت یہ خدا تعالیٰ کی حکمت ہے کہ جہاں نا بینا معترض آکر اٹکا ہے و ہیں حقائق و معارف کا مخفی خزانہ رکھا ہے یا (ملفوظات جلد اول صفحہ ۱۵۹ ۶۰) " سو جاننا چاہئیے کہ قرآن شریف یونہی لڑائی کے لئے حکم نہیں فرماتا بلکہ صرف ان لوگوں کے ساتھ لڑنے کا حکم فرماتا ہے جو خدا تعالیٰ کے بندوں کو ایمان لانے سے روکیں اور اس بات سے روکیں کہ وہ خدا تعالیٰ کے حکموں پر کاربند ہوں اور اس کی عبادت کریں اور ان لوگوں کے ساتھ لڑنے کے لئے حکم فرماتا ہے جو مسلمانوں سے بے وجہ لڑتے ہیں اور مومنوں کو ان کے گھروں اور وطنوں سے نکالتے ہیں اور خلق اللہ کو جبرا اپنے دین میں داخل کرتے ہیں