محضرنامہ

by Other Authors

Page 116 of 195

محضرنامہ — Page 116

114 ایک قسم کا بغض پیدا ہو جایا کرتا ہے بالخصوص ہر ایک مذہب کے علماء اور گدی نشین تو بہت ہی بغض ظاہر کرتے ہیں۔۔۔اور سراسر نفس کے تابع ہو کر ضرر رسانی کے منصوبے سوچتے ہیں بلکہ بسا اوقات وہ اپنے دلوں میں محسوس بھی کرتے ہیں۔وہ خدا کے ایک پاک دل بندہ کو نا حق ایذا پہنچا کر خدا کے غضب کے نیچے آگئے ہیں اور ان کے اعمال بھی جو مخالف کارستانیوں کے لئے ہر وقت ان سے سرزد ہوتے رہتے ہیں۔ان کے دل کی قصور وار حالت کو ان پر ظاہر کرتے رہتے ہیں مگر پھر بھی حسد کی آگ کا تیز انجین عداوت کے گڑھوں کی طرف ان کو کھینچے لئے جاتا ہے۔یہی اسباب تھے جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں مشرکوں اور یہودیوں اور عیسائیوں کے عالموں کو نہ محض حق کے قبول کرنے سے محروم رکھا بلکہ سخت عداوت پر آمادہ کر دیا۔لہذا وہ اس تشکر میں لگ گئے کہ کسی طرح اسلام کو صفحۂ دنیا سے مٹا دیں اور چونکہ مسلمان اسلام کے ابتدائی زمانہ میں تھوڑے تھے اس لئے ان کے مخالفوں نے بباعث اس تکبر کے جو فطرتاً ایسے فرقوں کے دل اور دماغ میں جاگزین ہوتا ہے جو اپنے تئیں دولت میں ، مال میں، کثرت جماعت میں، عزت میں ، مرتبہ میں دوسرے فرقہ سے برتر خیال کرتے ہیں اس وقت کے مسلمانوں یعنی صحابہ سے سخت شمنی کا برتاؤ کیا اور وہ نہیں چاہتے تھے کہ یہ آسمانی پو وہ زمین پر قائم ہو بلکہ وہ ان راستبازوں کے ہلاک کرنے کے لئے اپنے ناخنوں تک زور لگا رہے تھے اور کوئی دقیقہ آزار رسانی کا اُٹھا نہیں رکھا تھا اور ان کو خوف یہ تھا کہ ایسا نہ ہو کہ اس مذہب کے پیر جم جائیں اور پھر اس کی ترقی ہمارے مذہب اور قوم کی بربادی کا موجب ہو جائے سو اسی خون سے جو ان کے دلوں میں ایک رُعب ناک صورت میں بیٹھ گیا تھا نہایت جابرانہ اور ظالمانہ کارروائیاں ان سے ظہور میں آئیں اور انہوں نے در دناک طریقوں سے اکثر مسلمانوں کو ہلاک کیا اور ایک زمانہ دراز یک جو تیرہ برس کی مدت تھی ان کی طرف سے یہی کارروائی رہی اور نہایت بے رحمی کی طرز سے خدا کے وفادار بندے