محضرنامہ

by Other Authors

Page 115 of 195

محضرنامہ — Page 115

110 انکارِ جہاد کے الزام کی حقیقت حضرت بانی سلسلہ احمدیہ پر آپ کے مخالفین کی طرف سے یہ الزام بھی لگایا جاتا ہے کہ آپ نے نعوذ باللہ اسلامی فریضہ جہاد کومنسوخ فرما دیا۔یہ الزام بالکل بے بنیاد ہے۔جہاد اسلام کا ایک اہم فریضہ ہے جس کی فرضیت اور اہمیت قرآن کریم اور احادیث نبوی سے واضح ہے۔جہاد ایک جامع لفظ ہے جو وسیع مفہوم اپنے اندر رکھتا ہے علمائے دین اور فقہاء نے جہاد کی بہت سی اقسام کو تسلیم کیا ہے۔مثلاً جهاد بالنفس، جهاد بالمال، جهاد بالعلم، جهاد اکبر،جہاد کبیر اور جہاد اصغر وغیرہ وغیرہ۔جہاں تک جہاد اصغر یعنی جہاد بالسیف کا تعلق ہے حضرت بانی سلسلہ احمدیہ سے پہلے کے علمائے دین اور فقہاء نے جہاد کی اس قسم کو جو قرآنی اصطلاح میں قتال کہلاتی ہے مخصوص حالات اور شرائط کے ساتھ مشروط قرار دیا ہے۔بدقسمتی سے اُمت مسلمہ میں امتداد زمانہ کے ساتھ جہاد کا یہ غلط مفہوم را ہ پکڑا گیا کہ اسلام کو بذریعہ جنگ بزور شمشیر پھیلانا جہاد ہے۔اسلامی جہاد کی حقیقت سے متعلق حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے پر معارف ارشادات پیش ہیں :- " اب ہم اس سوال کا جواب لکھنا چاہتے ہیں کہ اسلام کو جہاد کی کیوں ضرورت پڑی اور جہاد کیا چیز ہے ؟ سو واضح ہو کہ اسلام کو پیدا ہوتے ہی بڑی بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا اور تمام قومیں اس کی دشمن ہو گئی تھیں۔جیسا کہ یہ ایک معمولی بات ہے کہ جب ایک نبی یا رسول بخدا کی طرف سے مبعوث ہوتا ہے اور اس کا فرقہ لوگوں کو ایک گروہ ہونہار اور راستباز اور باہمت اور ترقی کرنے والا دکھائی دیتا ہے تو اس کی نسبت موجودہ قوموں اور فرقوں کے دلوں میں ضرور